
نئی دہلی : بجلی کی تقسیم کار کمپنی اڈانی الیکٹرسٹی نے بجلی چوری کے خلاف چلائی گئی سخت مہم کے نتیجے میں مالی سال 2025-2026 کے دوران ایگریگیٹ ٹیکنیکل اینڈ کمرشل (اے ٹی اینڈ سی) نقصانات کو کم کرکے 4.46 فیصد تک پہنچا دیا ہے، جو گزشتہ مالی سال میں 4.70 فیصد تھا۔ کمپنی کے مطابق اس کامیابی کے بعد وہ ملک کی ان بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں شامل ہو گئی ہے جن کے اے ٹی اینڈ سی نقصانات سب سے کم ہیں۔کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ اے ٹی اینڈ سی نقصانات میں 0.24 فیصد کی کمی سے ایمانداری کے ساتھ بجلی کے بل ادا کرنے والے یوزر پر مالی بوجھ کم ہوگا، جب کہ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کی کارکردگی بھی مزید بہتر بنے گی۔بجلی چوری کی روک تھام کے لیے اڈانی الیکٹرسٹی نے مالی سال 2025-2026 کے دوران مجموعی طور پر 36 ہزار 720 بڑے چھاپے مارے اور بجلی چوری میں ملوث افراد کے خلاف 486 ایف آئی آر درج کرائیں۔ کمپنی کے مطابق صبح سویرے، رات گئے اور تعطیلات کے دوران خصوصی کارروائیوں میں 40 فیصد اضافہ کیا گیا، جس کے باعث بجلی چوری کے واقعات پر مؤثر قابو پانے میں کامیابی ملی۔
اس مہم کے دوران بجلی چوری کے 5 ہزار 897 مقدمات درج کیے گئے، جب کہ کارروائی کے دوران 79.25 ٹن غیر قانونی تاریں اور دیگر آلات ضبط کیے گئے۔ تحقیقات میں تقریباً ایک کروڑ 98 لاکھ 20 ہزار یونٹ بجلی کی چوری سامنے آئی، جس کی مالیت تقریباً 43 کروڑ 39 لاکھ روپے بتائی گئی۔ کمپنی نے بتایا کہ 7 نومبر 2025 کو ملاڈ (ویسٹ) کے سواستک کمپاؤنڈ میں مولڈنگ یونٹ میں براہ راست بجلی کنکشن استعمال کرکے ایک کروڑ 63 لاکھ روپے کی بجلی چوری پکڑی گئی۔ اسی طرح 4 جولائی 2025 کو گوریگاؤں (ویسٹ) کے موتی لال نگر میں واقع ایک مولڈنگ یونٹ میں 80 لاکھ روپے کی بجلی چوری بے نقاب ہوئی، جبکہ جون 2025 میں ملاڈ (ایسٹ) میں بھی 48 لاکھ 73 ہزار روپے مالیت کی بجلی چوری کا معاملہ سامنے آیا۔
کمپنی نے واضح کیا کہ بجلی چوری بجلی ایکٹ 2003 کی دفعہ 135 کے تحت ناقابل ضمانت جرم ہے۔ اس جرم میں قصوروار ثابت ہونے پر جرمانے، تین سال تک قید یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ اڈانی الیکٹرسٹی پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں بھی انجام دیتی ہے، جن میں ملزمان کی گرفتاری کے ساتھ چوری میں استعمال ہونے والے آلات بھی ضبط کیے جاتے ہیں۔ کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ بجلی چوری کا سب سے زیادہ نقصان ان صارفین کو اٹھانا پڑتا ہے جو باقاعدگی سے اپنے بل ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ بجلی طلب والے علاقوں، خصوصاً کچی آبادیوں میں بجلی چوری سے موجودہ نیٹ ورک پر اضافی دباؤ پڑتا ہے، جس سے کیبلز اور ٹرانسفارمر بار بار خراب ہوتے ہیں اور دیکھ بھال کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق کمپنی آئندہ بھی خصوصی مہمات کو مزید تیز کرے گی تاکہ اے ٹی اینڈ سی نقصانات میں مزید کمی لائی جا سکے اور صارفین کو مناسب نرخوں پر بہتر اور محفوظ بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔







