
Bhojshala Masjid-Mandir Dispute: مدھیہ پردیش کے بھوج شالہ معاملے میں سپریم کورٹ نے بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے احاطے کے پاس مسلمانوں کونمازکی اجازت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کوبھی ابھی برقراررکھا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ فی الحال ہم دونوں فریق کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے درخواست گزارفریق یعنی عرضی گزارکوایک اوپن اسپیس مہیا کرانے کا حکم ریاستی حکومت کودیتے ہیں، تاکہ وہ ایک سے 3 بجے کے درمیان نمازادا کرسکیں۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ مذہبی کاموں کے دوران دونوں فریق کو ایک دوسرے کی طرف سے کوئی رخنہ اندازی یا روک ٹوک نہیں ہونی چاہئے۔ یہ نظام غیرمستقل ہے۔ اس کا آخری فیصلہ اپیل کے آخری نتیجوں پرمنحصرکرے گا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اے ایس آئی بغیرعدالت کومطلع کئے ڈھانچے میں تبدیلی نہیں کرے گا۔ نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔ آئندہ سماعت تین ہفتے بعد ہوگی۔
ڈھانچہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی: چیف جسٹس
سماعت کے دوران مسلم فریق کی طرف سے وکیل حذیفہ احمدی نے اسٹیٹس کو کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے ایس آئی ڈھانچے کو تبدیل کرسکتی ہے، اس پراسٹیٹس کوکو برقراررکھیں۔ اس پرچیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ ٹھیک ہے ڈھانچہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ بھوج شالہ معاملے میں مسلم فریق نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کوسپریم کورٹ میں چیلنج دیا تھا۔ منگل کواس معاملے میں سماعت ہوئی۔
تین ہفتے بعد ہوگی آئندہ سماعت
اس دوران چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ ہمیں ایسا کوئی فیصلہ صادرنہیں کرنا چاہئے، جس سے کشیدگی پیدا ہو، دونوں فریق صبر رکھیں۔ ہم اس معاملے کی روزانہ سماعت کرنے اور تنازعہ کا حل نکالنے کے لئے تیارہیں۔ یہ آخرکار حساس معاملہ ہے، اس لئے ہمیں ہرلفظ کا انتہائی احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا ہوگا۔ ہم نوٹس جاری کریں گے اوران معاملوں کو فائنل سماعت کے لئے اس تاریخ پرلسٹ کریں گے، جب دونوں فریق کے پاس وقت ہو۔ معاملہ کی آئندہ سماعت تین ہفتے بعد ہوگی۔







