
نئی دہلی: بھارت نے 56ویں انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی سائنسی صلاحیتوں کا لوہا منوا دیا۔ کولمبیا کے شہر بوکارامانگا میں 4 سے 12 جولائی 2026 تک منعقدہ اس باوقار مقابلے میں بھارتی ٹیم کے پانچوں طلبہ نے گولڈ میڈل حاصل کیے، جس کے بعد بھارت نے چین، قازقستان، روس، جنوبی کوریا اور تائیوان کے ساتھ مشترکہ طور پر عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔اس مقابلے میں دنیا کے 87 ممالک کے 381 طلبہ نے حصہ لیا، جہاں بھارتی طلبہ نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے ذریعے ملک کا نام روشن کیا۔ اس تاریخی کامیابی پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی نوجوان صلاحیتیں سونے کی طرح چمک رہی ہیں۔
امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے پیغام میں لکھا، “56ویں انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ 2026 میں گولڈ میڈل جیتنے پر کنشک جین، ردھیش اننت بیندلے، رشیت گرگ، شریشٹھ سوریا اور سورت جوشی کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ آپ کی کامیابی نہ صرف آپ کی محنت اور صلاحیت کا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ بھارت کے نوجوان سائنس کے میدان میں دنیا کی قیادت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔”بھارت کے لیے گولڈ میڈل جیتنے والے طلبہ میں مہاراشٹر کے پونے سے کنشک جین، مدھیہ پردیش کے اندور سے ردھیش اننت بیندلے، نئی دہلی کے دوارکا سے رشیت گرگ، ممبئی سے شریشٹھ سوریا اور گجرات کے احمد آباد سے سورت جوشی شامل ہیں۔ ان پانچوں طلبہ نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو عالمی سطح پر سرفہرست مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
بھارتی ٹیم کی تیاری ہومی بھابھا سینٹر فار سائنس ایجوکیشن (HBCSE) نے کرائی، جو ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامنٹل ریسرچ (TIFR) کے تحت قومی اولمپیاڈ پروگرام کا حصہ ہے۔ ٹیم کی رہنمائی پروفیسر انویش مجمدار اور ڈاکٹر لینا جوشی نے کی، جبکہ سائنسی مبصرین کے طور پر پروفیسر آنند داس گپتا اور نشا کیلکر نے بھی اہم کردار ادا کیا۔یہ دوسری مرتبہ ہے کہ بھارت نے انٹرنیشنل فزکس اولمپیاڈ میں پانچوں طلائی تمغے اپنے نام کیے ہیں۔ اس سے قبل 2018 میں بھی بھارتی ٹیم نے یہی کارنامہ انجام دیا تھا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے تمام شرکاء مسلسل تمغے جیتتے آ رہے ہیں، جن میں تقریباً 62 فیصد طلائی اور 38 فیصد چاندی کے تمغے شامل ہیں۔ یہ کامیابی عالمی سطح پر سائنس اور تحقیق کے میدان میں بھارت کی مضبوط ہوتی ہوئی پوزیشن کی عکاسی کرتی ہے۔






