
مہاراشٹرمیں اجیت پوارکی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) میں نیا تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ اب پارٹی میں قیادت سے متعلق ایک اوربحث شروع ہوگئی ہے۔ دراصل، این سی پی کی قومی صدرسنیترا پوار، کارگزارصدرپرفل پٹیل اورپارٹی جنرل سکریٹری برج موہن شریواستوکوایک لیگل نوٹس بھیجا گیا ہے، جس کے ذریعہ سنیترا پوارکے قومی صدرکے الیکشن کوچیلنج دیا گیا ہے۔ 9 جولائی والی یہ نوٹس پارٹی کے سینئرلیڈراورنیشنل سکریٹری سچیدانند سنگھ نے بھیجا ہے اورانتخابی عمل کے جوازپرسوال اٹھائے ہیں۔ نوٹس بھیجتے ہوئے سچیدانند سنگھ نے دوبارہ الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آزاد اورمنصفانہ الیکشن کا مطالبہ
سچیدانند سنگھ نے 26 فروری کوہوئے این سی پی کے قومی صدرکے الیکشن کوغیرقانونی بتایا اوراسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک آزاد اورمنصفانہ الیکشن افسرکی نگرانی میں نئے طریقے سے کرایا جائے۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک نیا الیکشن نہیں ہوجاتا، تب تک نیشنل سکریٹری کی تقرری اورعہدیداران کی نظرثانی شدہ فہرست کوکالعدم قراردیا جائے۔
کون ہیں سچیدانند سنگھ؟
سچیدانند سنگھ این سی پی (اجیت پوارگروپ) کے جھارکھنڈ ریاستی صدرہیں۔ وہ گزشتہ 15 سال سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔ سال 2023 کے دسمبرمیں انہیں نیشنل سکریٹری نامزد کیا گیا تھا، جب اجیت پوارقومی صدرہوا کرتے تھے۔ اس سال 26 فروری کوپارٹی کی نیشنل ایگزیکٹیومیں وہ شامل نہیں تھے۔
سچیدانند سنگھ نے کیا یہ اعتراض؟
28 جنوری، 2026 کواجیت پوارکی موت کے بعد پارٹی نے 17 فروری 2026 کوالیکشن کمیشن کوایک بدلا ہوا کانسٹی ٹیوشن جمع کیا، جس میں کہا گیا کہ کارگزارصدرپرفل پٹیل نئے صدر کے منتخب ہوجانے تک قومی صدرکی طاقت کا استعمال کریں گے۔ سچیدانند سنگھ کا موقف ہے کہ بدلے ہوئے کانسٹی ٹیوشن کے تحت، صرف پرفل پٹیل کے پاس نیشنل ایگزیکٹیومیٹنگ بلانے کا اختیارتھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ نیشنل جنرل سکریٹری برج موہن شریواستونے کس اختیارسے 26 فروری کومیٹنگ بلائی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ 26 فروری کی نیشنل ایگزیکٹیومیٹنگ کے لئے منظوری مانگنے کے لئے 18 فروری کوالیکشن کمیشن کوبھیجے گئے خط میں اس وقت کی نیشنل ایگزیکٹیوممبران کی منظوری نہیں تھی، جس سے سنیترا پوارکے قومی صدرکے طورپرنامزدگی کی قانونی جوازپرسوال اٹھتے ہیں۔






