
تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد پہلے عوامی خطاب کے ساتھ ایک ایرانی قومی اخبار نے مبینہ طور پر ’’انتقام کی فہرست‘‘ شائع کی ہے، جس میں 13 عالمی رہنماؤں کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ ایرانی روزنامہ ہمشہری نے ہفتہ کی شب اپنی آن لائن اشاعت میں یہ فہرست جاری کی، جسے آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد مبینہ طور پر ’’اہداف‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ اشاعت مجتبیٰ خامنہ ای کے پہلے عوامی پیغام کے ساتھ سامنے آئی ہے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی تصاویر پر کراس
شائع شدہ گرافک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی تصاویر کے ماتھے پر اسنائپر کے نشانے (کراس ہیئر) دکھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ نارنجی قیدیوں کے لباس میں مزید 11 عالمی شخصیات کی تصاویر شامل کی گئی ہیں، جن میں برطانوی وزیراعظم کیراسٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، اطالوی وزیراعظم جورجیا میلونی، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ بریڈ کوپر، اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی، اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر اور اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سار شامل ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا بیان
اپنے بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ’’انتقام ہماری قوم کی خواہش ہے اور اسے ہر صورت پورا کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ مجرم، جن کے نام اس فہرست میں موجود ہیں، اپنی موت تک اپنے بستروں پر پُرامن انجام کی خواہش ہی کرتے رہ جائیں گے۔‘‘ اگرچہ یہ گرافک منظر عام پر آیا ہے، تاہم اس بات کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ اس فہرست کی ایرانی حکومت نے باضابطہ توثیق کی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی اپنے بیان میں ان افراد کے نام نہیں لیے جنہیں وہ اپنے والد کی موت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کو ہونے والے اسی حملے میں زخمی بھی ہوئے تھے، جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوئے تھے اور اس کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئے تھے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ اور ٹرمپ کا ردعمل
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ سی این این کے مطابق امریکی حکام کو مسلسل ایسی انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہو رہی تھیں جن میں ٹرمپ کو لاحق ممکنہ خطرات کا ذکر تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل نے واشنگٹن کو ٹرمپ کے خلاف ایک مخصوص مبینہ سازش سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔ اسی تناظر میں ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی کے دوران ایک پرانے طیارے میں سفر کیا۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’’وہ امریکہ کے رہنما، یعنی مجھے نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ آج صبح میں نے دیکھا کہ میں ان کی ہر فہرست میں شامل ہوں۔‘‘
خطے میں کشیدگی برقرار
رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بعد خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ امریکہ نے اتوار کی صبح تقریباً 140 مقامات پر حملے کیے، جنہیں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کا جواب قرار دیا گیا۔ ادھر تہران نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ بحری جہازوں نے طے شدہ راستے سے متعلق انتباہات کو نظر انداز کیا تھا اور اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گا جب تک خطے میں امریکی مداخلت ختم نہیں ہو جاتی۔ ایران نے بحرین، کویت، قطر اور عمان سمیت کئی خلیجی ممالک پر بھی تنقید کی، جبکہ قطر نے ان حملوں کو ’’خطرناک کشیدگی‘‘ قرار دیا اور عمان نے بھی اس کارروائی کی مذمت کی۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’’یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ یا اپنے وعدے پورے کرو یا پھر اس کی قیمت ادا کرو۔‘‘






