نگلورو میں ایک نہایت دلچسپ اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے۔ کرناٹک کے وزیرِ ٹرانسپورٹ بی سریش زمینی حقائق جاننے کے لیے بغیر کسی سکیورٹی اور پروٹوکول کے عام مسافر بن کر سرکاری بس میں سفر کر رہے تھے، لیکن جب ان کے پاس کرایے کے لیے کھلے پیسے نہیں تھے تو کنڈکٹر نے انہیں بس سے اتر جانے کو کہہ دیا۔یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا ہے۔ ایک طرف وزیر کے سادہ انداز اور اچانک معائنے کو سراہا جا رہا ہے، تو دوسری جانب اس بات پر بھی بحث چھڑ گئی ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے دور میں بھی سرکاری بسوں میں کھلے پیسوں کی کمی عام مسافروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
عام مسافر بن کر کیا زمینی صورتحال کا جائزہ
کرناٹک کے وزیرِ ٹرانسپورٹ بی سریش ہفتہ کی شب بنگلورو میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (BMTC) کی بسوں میں مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے عام شہری کے بھیس میں نکلے۔ انہوں نے وی آئی پی پروٹوکول کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی شناخت مکمل طور پر مخفی رکھی اور تقریباً دو گھنٹے تک دس سے زائد بسوں میں سفر کیا تاکہ کسی سرکاری دباؤ کے بغیر عوام کو درپیش مشکلات کا خود مشاہدہ کر سکیں۔
کنڈکٹر نے پہچانے بغیر بس سے اترنے کو کہا
اسی دوران ایک بس میں جب وزیر نے ٹکٹ مانگا تو ان کے پاس کرایے کے لیے کھلے پیسے موجود نہیں تھے۔ کنڈکٹر انہیں پہچان نہ سکا اور عام مسافر سمجھتے ہوئے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ اگر کھلے پیسے نہیں ہیں تو وہ بس سے اتر جائیں۔ وزیر نے بھی ایک ذمہ دار شہری کی طرح کنڈکٹر کی بات کو برا نہیں مانا اور معمول کے مطابق برتاؤ کیا۔
سوشل میڈیا پر خوب چرچا
اس ایک واقعے نے بنگلورو کے لاکھوں روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کو درپیش حقیقی مشکلات کو اجاگر کر دیا۔ سوشل میڈیا پر صارفین وزیر کے سادہ طرزِ عمل کی تعریف کر رہے ہیں کہ انہوں نے خود کو عام شہری کی جگہ رکھ کر حالات کا جائزہ لیا۔ ساتھ ہی یہ واقعہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ ڈیجیٹل انڈیا کے دور میں بھی سرکاری بسوں میں کھلے پیسوں کا مسئلہ اب تک کیوں برقرار ہے۔







