
نئی دہلی : ملک کی سمندری سرحدوں کے ذریعے ممکنہ دراندازی اور ساحلی علاقوں میں سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مرکزی حکومت نے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیر برائے بندرگاہ، جہاز رانی و آبی گزرگاہیں سربانند سونووال نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں مجوزہ بیورو آف پورٹ سکیورٹی کے قیام اور ساحلی سکیورٹی نظام کا جائزہ لیا۔ میٹنگ میں مرکزی داخلہ سکریٹری، انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر، سی آئی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل سمیت متعدد اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔میٹنگ کے دوران امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک کی سلامتی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور تمام بڑی بندرگاہوں کی سکیورٹی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا دراندازی کو روکا جا سکے۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے سرحدی اضلاع کے پولیس سپرنٹنڈنٹس کے ساتھ بھی ایک خصوصی مٹینگ کی، جس میں سرحدی اور ساحلی علاقوں میں سکیورٹی صورتحال اور مشتبہ سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ غیر قانونی دراندازی کی ہر کوشش پر کڑی نظر رکھی جائے اور سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔حکومت مرچنٹ شپنگ ایکٹ 2025 کی دفعہ 13 کے تحت بیورو آف پورٹ سکیورٹی کو ایک قانونی ادارے کے طور پر قائم کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جو بندرگاہوں اور جہازوں کی سکیورٹی، نگرانی اور ریگولیٹری امور کی ذمہ داری سنبھالے گا۔ امت شاہ نے ہدایت دی کہ اس ادارے میں تعینات ہونے والے تمام سکیورٹی اہلکاروں کا جامع ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیار کیا جائے تاکہ ان کی نگرانی اور تعیناتی کا نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
مٹینگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پورٹ سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے بنیادی ڈھانچے کو استعمال کرتے ہوئے اہلکاروں کو جدید سکیورٹی ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور حساس تنصیبات کے تحفظ کی خصوصی تربیت دی جائے، تاکہ بندرگاہوں کے آئی ٹی انفراسٹرکچر کو سائبر حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔بندرگاہوں کی سکیورٹی کے نظام کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیے سی آئی ایس ایف کو وشاکھاپٹنم پورٹ، جواہر لعل نہرو پورٹ اور مندرا پورٹ سمیت اہم بندرگاہوں پر مجوزہ سکیورٹی انتظامات کا عملی جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کنٹینرز کی جدید اسکیننگ اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ بندرگاہوں کی سکیورٹی صرف انہی نجی سکیورٹی ایجنسیوں کو سونپی جائے گی جن کے اہلکاروں نے سی آئی ایس ایف سے خصوصی تربیت حاصل کی ہو۔ساحلی علاقوں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ماہی گیری کے مراکز اور فش لینڈنگ سینٹرز پر مستقل پولیس فورس تعینات کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔ امت شاہ نے ہدایت دی کہ اسرو کی جانب سے تیار کردہ نبھ مترا ایپ کو تمام ماہی گیروں اور کشتی رانوں تک پہنچایا جائے تاکہ ہنگامی حالات میں فوری رابطہ اور نگرانی ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ تمام اضلاع کے انتظامی حکام کو فش لینڈنگ سینٹرز کی مکمل فہرست تیار کرکے وہاں سکیورٹی انتظامات مزید مضبوط بنانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔







