
مدھیہ پردیش کی دتیا اسمبلی سیٹ پرہونے والے ضمنی انتخاب کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے سابق وزیرداخلہ ڈاکٹرنروتم مشرا کوٹکٹ نہ دیئے جانے کے بعد دتیا میں سیاسی ماحول کشیدہ ہوگیا ہے۔ پارٹی نے ان کی جگہ آشوتوش تیواری کوامیدواربنایا ہے، جس پر نروتم مشرا کے حامیوں نے شدید احتجاج شروع کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آج (ہفتہ، 11 جولائی) نروتم مشرا کے متعدد حامی دہلی پہنچ کرپارٹی کی اعلیٰ قیادت سے نروتم مشرا کوہی ٹکٹ دینے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، پارٹی کے اندرونی سروے میں نروتم مشرا کی جیت کے امکانات کم بتائے گئے تھے، جس کے بعد مرکزی قیادت نے امیدوارتبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہیں، نروتم مشرا بھی دہلی پہنچ چکے ہیں اورامکان ظاہرکیا جا رہا ہے کہ وہ آج پارٹی کی قومی قیادت سے اس معاملے پرملاقات کریں گے۔ جمعہ کے روزنروتم مشرا کے حامیوں نے دتیا شہرمیں زبردست احتجاج کیا۔ مظاہرین نے کئی دکانیں بند کرا دیں، بی جے پی دفترکے باہر دھرنا دیا اور قومی شاہراہ این ایچ-44 پر تقریباً 10 سے 11 گھنٹے تک چکہ جام رکھا۔ اس کے باعث تقریباً 50 کلومیٹرطویل ٹریفک جام لگ گیا اورہزاروں گاڑیاں پھنس گئیں۔
پولیس پر پتھراؤ، آنسو گیس اور لاٹھی چارج
پولیس اورانتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کوسمجھانے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹے۔ اس دوران بعض مظاہرین نے پولیس پرپتھراؤکیا، جس کے جواب میں پولیس نے اپنے دفاع کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج بھی کیا۔ اس کارروائی کے بعد کچھ دیر کے لیے علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ احتجاجی مظاہرین اب بھی قومی شاہراہ پرموجود ہیں اور نعرے بازی کے ذریعے اپنے مطالبات پیش کر رہے ہیں، جس سے آمد ورفت متاثرہورہی ہے۔ پولیس اورضلعی انتظامیہ مسلسل صورت حال پرنظررکھے ہوئے ہیں اورمظاہرین سے مذاکرات کرکے راستہ کھلوانے کی کوشش کررہے ہیں۔ فی الحال علاقے میں کشیدگی برقرارہے، تاہم انتظامیہ کے مطابق حالات قابو میں ہیں۔
ایس پی نے مظاہرین سے متعلق دیا یہ بڑا بیان
دتیا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) نے بتایا کہ جمعہ کو تین ہزار سے زائد افراد نے شہر کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی اور بازار بند کرانے کی بھی کوشش کی۔ ان کے مطابق مظاہرین شام چھ بجے سے ہی چکہ جام کے لیے بیٹھے ہوئے تھے، جبکہ ہفتہ کی صبح تقریباً چار بجے اچانک پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا گیا۔ ایس پی نے بتایا کہ اس واقعے میں پولیس کے چھ سے زائد اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود انہیں اور ایڈیشنل ایس پی کو بھی چوٹیں آئی ہیں۔ پولیس نے کچھ افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور پورے ضلع میں اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔
خودسوزی کی کوشش ناکام
احتجاج کے دوران جمعہ کی دیررات نروتم مشرا کے ایک حامی نے خودسوزی کی کوشش بھی کی، تاہم موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس کے ہاتھ سے پٹرول سے بھری بوتل چھین لی، جس کے بعد دیگرحامیوں اورپولیس افسران نے اسے سمجھا بجھا کرمعاملہ ٹھنڈا کر دیا۔ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے نروتم مشرا کے حامیوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ مشرا کو اتوارکوٹکٹ دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دتیہ سے اصل امیدوارنروتم مشرا ہی ہیں، کیونکہ وہ طویل عرصے سے علاقے میں سرگرم ہیں، اس لیے پارٹی کو انہی کو امیدوار بنانا چاہیے۔
بی جے پی کے سینئر لیڈران میں نروتم مشرا کا شمار
ڈاکٹرنروتم مشرا بی جے پی کے سینئر اوربااثررہنماؤں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ وہ 2018 سے 2023 تک دتیہ سے رکن اسمبلی رہے اورسابق وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کی حکومت میں وزیرداخلہ کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ان کے حامی انہیں ریاست میں وزیر اعلیٰ کے ممکنہ امیدوار کے طور پر بھی دیکھتے رہے ہیں۔ تاہم 2023 کے اسمبلی انتخابات میں انہیں کانگریس امیدوارراجندربھارتی کے ہاتھوں تقریباً سات ہزار ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
دتیا میں کیوں ہو رہا ہے ضمنی انتخاب؟
مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات 2023 میں کانگریس کے امیدوارراجیندر بھارتی نے سابق وزیرداخلہ ڈاکٹرنروتم مشرا کوساڑھے سات ہزارسے زائد ووٹوں سے شکست دے کردتیا اسمبلی نشست پرکامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم اپریل 2026 میں دہلی کی ایک عدالت نے دھوکہ دہی کے ایک مقدمے میں راجیندربھارتی کوتین سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد ان کی اسمبلی رکنیت ختم ہو گئی اوردتیا اسمبلی نشست خالی ہوگئی۔ اسی خالی نشست پراب ضمنی انتخاب کرایا جا رہا ہے۔ اس نشست کے لیے 30 جولائی کو ووٹنگ ہوگی، جبکہ 3 اگست کونتائج کا اعلان کیا جائے گا۔







