
کولکاتا ایئرپورٹ کے آپریشنل علاقے میں واقع 136 سالہ قدیم بانکرا مسجد (گوری پورجامع مسجد) میں نمازیوں کے داخلے پرغیرمعینہ مدت کے لیے پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ایئرپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ صرف آدھارکارڈ کی بنیاد پرداخلے کی اجازت دینا سیکورٹی کے نقطۂ نظرسے مناسب نہیں، اسی لئے فی الحال مسجد میں نمازادا کرنے کی اجازت پرپابندی لگا دی گئی ہے۔ اس فیصلے پرمقامی مسلم برادری نے شدید ناراضگی کا اظہارکیا ہے۔
گزشتہ روزایئرپورٹ انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ مسلسل بارش کے باعث مسجد تک جانے والی سڑک کونقصان پہنچا ہے، جس کی فوری مرمت ضروری ہے۔ اسی وجہ سے دو دن کے لیے آمد ورفت بند کی گئی تھی اورامید ظاہرکی گئی تھی کہ اگرمرمت کا کام وقت پرمکمل ہو گیا تو پیر(13 جولائی) سے نمازیوں کو دوبارہ مسجد میں داخلے کی اجازت دے دی جائے گی۔ تاہم اتوار کے روزانتظامیہ نے اپنا مؤقف تبدیل کردیا۔ ایئرپورٹ کے ایک سینئرافسرنے بتایا کہ سڑک کی مرمت مکمل ہوچکی ہے، لیکن بیوروآف سول ایوی ایشن سیکورٹی (بی سی اے ایس) کی جانب سے اٹھائے گئے سیکورٹی خدشات کے باعث فی الحال مسجد میں نمازکی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
سی آئی ایس ایف کی نگرانی میں لوگ ادا کرتے تھے نماز
اس سے پہلے تک سینٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کی نگرانی میں روزانہ تقریباً 70 نمازی آدھارکارڈ دکھا کرمختلف اوقات میں مسجد میں داخل ہوکرنماز ادا کرتے تھے۔ اتوارکے روزگیٹ -نمبر8 پرتعینات سی آئی ایس ایف اہلکاروں نے نمازیوں کوبتایا کہ ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی) کی جانب سے گیٹ دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ابھی تک کوئی نئی ہدایت موصول نہیں ہوئی ہے۔
مسلم طبقہ میں شدید بے چینی
انتظامیہ کے اس فیصلے پرمسلم برادری میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ایک نمازی نے کہا کہ وہ اتوارکویہ معلوم کرنے مسجد پہنچے تھے کہ نمازکی اجازت کب بحال ہوگی، مگرانہیں بتایا گیا کہ اگلے حکم تک داخلہ بند رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی رن وے کی مرمت ہوئی تھی، لیکن اس دوران کبھی نمازپرپابندی نہیں لگائی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکام اس معاملے پرواضح مؤقف کیوں اختیارنہیں کررہے ہیں اوریہ پابندی آخرکب تک برقراررہے گی۔
سابق وزیراورجمعیۃ علماء ہند کے صدر نے ڈائریکٹرکو لکھا خط
دوسری جانب، مغربی بنگال کے سابق وزیراورجمعیۃ علماء ہند (مغربی بنگال) کے صدرصدیق اللہ چودھری نے کہا کہ انہوں نے ایئرپورٹ ڈائریکٹرکوخط لکھ کرمطالبہ کیا ہے کہ واضح کیا جائے نمازیوں کودوبارہ مسجد میں داخلے اورنمازکی اجازت کب دی جائے گی؟ ذرائع کے مطابق بیوروآف سول ایوی ایشن سیکورٹی (بی سی اے ایس) نے حال ہی میں ایئرپورٹ حکام کوخط لکھ کرصرف آدھارکارڈ کی بنیاد پرداخلہ دینے کے طریقۂ کارپراعتراض کیا تھا۔ ایئرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ نئی ہدایات کا انتظارکررہی ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ مسجد میں داخلے کے لئے نیا پاس سسٹم نافذ کیا جائے یا عام لوگوں کا داخلہ مستقل طورپربند کردیا جائے۔
مرکزی وزیرنے مسجد منتقل کرنے کی بات کو دہرایا
وہیں، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مقامی رکن اسمبلی سوربھ سکدرنے دعویٰ کیا ہے کہ مسجد کی موجودگی ایئرپورٹ کے سیکنڈری رن وے کی توسیع میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ نے مسجد کمیٹی کومتبادل جگہ دینے کی کئی بارپیشکش کی، لیکن کمیٹی نے منتقل ہونے سے انکارکردیا۔ مرکزی وزیرسکانت مجمدارنے بھی اس معاملے پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومتیں خوشامدانہ سیاست کی وجہ سے کارروائی نہیں کرتی تھیں، لیکن موجودہ حکومت اس طرزِعمل پریقین نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرضرورت ہوتومسجد کو دوسری جگہ منتقل کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہئے۔







