
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر(13 جولائی) کوتمل ناڈومیں گئوکشی پرمکمل پابندی سے متعلق مدراس ہائی کورٹ کے حکم پرعبوری روک لگا دی ہے۔ ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کوچیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اورمؤقف اختیارکیا تھا کہ ریاستی قانون کے مطابق، 10 سال سے زیادہ عمرکے گئونسل کے جانوروں کے ذبح پرمکمل پابندی نہیں ہے، جبکہ ہائی کورٹ نے قانون کے دائرے سے باہرجا کرحکم جاری کیا۔
‘باراینڈ بینچ’ کی رپورٹ کے مطابق، جسٹس وکرم ناتھ اورجسٹس سندیپ مہتا پرمشتمل بنچ نے تمل ناڈوحکومت کی اپیل پرسماعت کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی عرضی پرنوٹس جاری کیا اور آئندہ سماعت تک مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کے نفاذ پرروک لگا دی۔ سپریم کورٹ میں تمل ناڈوحکومت نے دلیل دی کہ اصل عرضی صرف عیدالاضحیٰ (بقرعید) کے موقع پرمنظورشدہ مذبح خانوں (سلاٹرہاوس) کے باہرمبینہ طورپرگائے اوربچھڑوں کی قربانی کے معاملے تک محدود تھی۔
تمل ناڈو حکومت نے دی تھی یہ دلیل
حکومت کا کہنا تھا کہ مدراس ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے اس دائرے سے آگے بڑھتے ہوئے پورے تمل ناڈومیں گئوکشی پرمکمل پابندی کا حکم جاری کردیا، جونہ صرف عرضی کے دائرہ کارسے باہرہے بلکہ ریاستی قانون کے بھی مطابق نہیں ہے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ مدراس ہائی کورٹ کی بینچ نے اس مسئلے سے آگے بڑھتے ہوئے پوری ریاست میں گائے کی ذبیحہ پرمکمل پابندی لگانے کا حکم دے دیا، جوعرضی کے دائرے سے باہراورقانون کے مطابق نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد مدارس ہائی کورٹ کا فیصلہ غیرمؤثر
واضح رہے کہ مدراس ہائی کورٹ نے 27 مئی کواپنے فیصلے میں آئین ہند کے آرٹیکل 48 اور 1976 میں تمل ناڈوحکومت کی جانب سے جاری گئوکشی سے متعلق حکومتی حکم کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستی حکومت کوہدایت دی تھی کہ عیدالاضحیٰ سمیت کسی بھی دن گائے اوربچھڑوں کے ذبیحہ کی اجازت نہ دی جائے۔ سپریم کورٹ کے تازہ عبوری حکم کے بعد فی الحال مدراس ہائی کورٹ کا فیصلہ مؤثرنہیں رہے گا۔ اب آئندہ سماعت میں سپریم کورٹ یہ طے کرے گی کہ ہائی کورٹ کا حکم آئین اورموجودہ قانون کے مطابق تھا یا نہیں۔






