
نئی دہلی : نوئیڈا میں لاپروائی ایک بار پھر جان لیوا ثابت ہوئی۔ سیکٹر-58 میں جمعرات کی صبح شدید بارش کے دوران دفتر جا رہے 27 سالہ انجینئر آرین کی نالے میں گرنے سے موت ہو گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وہ پانی میں ڈوبے نالے کے سلیب پر چل رہے تھے، ٹوٹے ہوئے سلیب کا حصہ نظر نہ آنے کے باعث وہ اچانک نالے میں گرگئے۔ اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر نوئیڈا اتھارٹی کی تیاریوں اور مانسون سے قبل کیے جانے والے دعووں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔پولیس کے مطابق آرین کا تعلق اتر پردیش کے ضلع فرخ آباد سے تھا اور وہ نوئیڈا کے چوڑا گاؤں میں رہتے تھے۔ انہوں نے حال ہی میں بی ٹیک کی تعلیم مکمل کی تھی اور سیکٹر-58 میں ایک آئرن پروڈکٹ کمپنی میں ٹیکنیکل سپروائزر کے طور پر کام کر رہےتپے۔ جمعرات کی صبح شدید بارش کے باعث سیکٹر-58 کی سڑکیں زیرآب تھیں اور گھٹنوں تک پانی بھر گیا تھا۔ اسی دوران آرین نالے پر بنے سلیب کے راستے دفتر جارہے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق جب آرین ایک کمپنی کے سامنے پہنچے تو قریب نصب ٹرانسفارمر میں اچانک شارٹ سرکٹ ہوگیا، جس سے زور دار آواز اور چنگاریاں نکلیں۔ وہ گھبرا گئے اور اسی دوران اس کا پاؤں ٹوٹے ہوئے سلیب پر پڑ گیا، جس کے نتیجے میں وہ سیدھے نالے میں جا گرے۔ پانی بھر جانے کی وجہ سے سلیب کا ٹوٹا ہوا حصہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ لوگوں نے فوری طور پر انہیں نالے سے باہر نکالا، پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد انہیں ضلع اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔سیکٹر-58 تھانے کی پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی حتمی وجہ واضح نہیں ہو سکی، پولیس اس پہلو کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آرین کی موت نالے میں گرنے سے ہوئی یا انہیں کرنٹ بھی لگا تھا، کیونکہ حادثے کے وقت ٹرانسفارمر میں شارٹ سرکٹ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ نالے کا سلیب کافی عرصے سے ٹوٹا ہوا تھا اور اس کی شکایت کئی مرتبہ متعلقہ حکام سے کی گئی تھی، مگر اس کی مرمت نہیں کرائی گئی۔ بارش کے دوران پانی بھر جانے سے ٹوٹا ہوا حصہ مکمل طور پر چھپ گیا، جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ رہائشیوں نے اسے حادثہ نہیں بلکہ انتظامیہ کی سنگین غفلت قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل جنوری 2026 میں بھی سیکٹر-150 میں انجینئر یوراج اپنی گاڑی سمیت پانی سے بھرے گڑھے میں گر کر جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی اور کھلے نالوں، ٹوٹے سلیبوں اور آبی جمعاؤ والے مقامات کو محفوظ بنانے کے دعوے کیے گئے تھے، لیکن سیکٹر-58 کا تازہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ زمینی سطح پر مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے، جس کا خمیازہ ایک اور خاندان کو اپنے نوجوان بیٹے کی جان کی صورت میں بھگتنا پڑا۔







