
نئی دہلی : بھارت اور نیوزی لینڈ نے باہمی تعلقات کو نئی بلندی دیتے ہوئے اپنے دوطرفہ روابط کو باضابطہ طور پر “اسٹریٹجک پارٹنرشپ” کا درجہ دے دیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے تاریخی دورۂ نیوزی لینڈ کے دوران دونوں ممالک نے “انڈیا-نیوزی لینڈ اسٹریٹجک پارٹنرشپ: روڈ میپ 2030” کی بھی منظوری دی، جس کے تحت تجارت، زراعت، سلامتی، اختراع، سیاحت، تعلیم اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ تقریباً 40 سال بعد کسی بھارتی وزیر اعظم کے پہلے سرکاری دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔بھارت اور نیوزی لینڈ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں وزرائے اعظم نے باہمی تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ تک وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ “روڈ میپ 2030” آئندہ چار برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا بنیادی خاکہ ہوگا، جس کا مقصد موجودہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا، نئے شعبوں میں اشتراک بڑھانا اور دوطرفہ کے ساتھ ساتھ کثیرالجہتی فورمز پر بھی تعاون کو فروغ دینا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی 10 اور 11 جولائی کو نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کی دعوت پر سرکاری دورے پر ہیں۔ یہ گزشتہ چار دہائیوں میں کسی بھارتی وزیر اعظم کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے تاریخی پیش رفت تصور
روڈ میپ 2030 کے تحت دونوں ممالک نے 2030 تک باہمی تجارت کو بڑھا کر 7 ارب نیوزی لینڈ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے تجارتی رکاوٹیں کم کرنے، سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔دونوں رہنماؤں نے بھارت-نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر دستخط کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پر جلد عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق اس معاہدے سے تجارتی رکاوٹیں کم ہوں گی، اقتصادی شراکت داری مضبوط ہوگی اور نیوزی لینڈ سے بھارت میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
نیوزی لینڈ نے بھارت کے “وکست بھارت 2047” وژن کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔ اس کے تحت تجارت، زراعت، ہنرمندی، اختراع، صاف توانائی، کھیل اور دیگر شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔دونوں ممالک نے کسٹمز کے عمل کو آسان بنانے کے لیے 2025 کے “آتھرائزڈ اکنامک آپریٹرز میوچوئل ریکگنیشن ارینجمنٹ” (AEO-MRA) پر عمل درآمد پر بھی اتفاق کیا، جس سے قابل اعتماد تجارت کو فروغ ملے گا۔
سیاحت کے شعبے میں بھی اہم پیش رفت ہوئی، جہاں دونوں ممالک نے ایک مفاہمتی انتظام پر دستخط کیے اور فضائی کمپنیوں سے بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان براہ راست نان اسٹاپ پروازیں شروع کرنے کی اپیل کی۔ زراعت، باغبانی، جنگلات، مویشی پالنے اور ڈیری کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ نیوزی لینڈ بھارت میں کیوی، سیب اور شہد کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں پر تعاون کرے گا، جبکہ بھارت میں کیوی سینٹر آف ایکسی لینس کے قیام اور ڈیری و مویشی پالنے کے شعبوں میں مفاہمتی یادداشت پر بھی اتفاق کیا گیا۔سمندری شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک نے بھارتی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ اور میری ٹائم نیوزی لینڈ کے درمیان ملاحوں کے مہارتی سرٹیفکیٹس کی باہمی منظوری کے عمل کو آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، جس سے سمندری شعبے میں افرادی قوت کی نقل و حرکت اور تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔







