
امریکا کی سیاست میں ایک بار پھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے ہلچل مچا دی ہے۔ ٹرمپ نے چین پر امریکی جمہوری نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بیجنگ نے ان کے خلاف ایک بڑے سائبر آپریشن کے ذریعے امریکی ووٹروں کا حساس ڈیٹا حاصل کیا۔ دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز (NYT) نے ان دعوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے کئی نکات پر سوالات اٹھائے ہیں۔
22 کروڑ ووٹروں کا ڈیٹا چوری کرنے کا دعویٰ
وائٹ ہاؤس میں خطاب کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ چین نے 18 ریاستوں کے تقریباً 22 کروڑ امریکی ووٹروں کا حساس ڈیٹا حاصل کیا، جس میں نام، پتے، فون نمبر اور سیاسی وابستگی جیسی معلومات شامل تھیں۔ ان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ان کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچانا اور انہیں دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنا تھا۔
میڈیا اور کاروباری اداروں پر بھی الزامات
ٹرمپ نے یہ بھی الزام لگایا کہ چین نے امریکی کمپنیوں کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے کاروباری حلقوں کو ان کی پالیسیوں کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض امریکی صحافیوں کو بھی ان کے خلاف منفی خبریں شائع کرنے کے لیے مالی فوائد کی پیشکش کی گئی، تاہم ان الزامات کے حق میں انہوں نے عوامی سطح پر کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا۔
نیویارک ٹائمز نے کیا کہا؟
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اب تک منظرِ عام پر آنے والی سرکاری دستاویزات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ چین نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج کو تبدیل کیا یا انتخابی عمل میں فیصلہ کن مداخلت کی۔ اخبار کے مطابق ٹرمپ کے بیانات میں کئی دعوے ایسے ہیں جن کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی اور انہیں آزادانہ شواہد کی حمایت حاصل نہیں ہے۔
2026 کے وسط مدتی انتخابات پر نظریں
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے حالیہ بیانات آئندہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں بھی اہم ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ اپنے حامیوں کے درمیان انتخابی شفافیت سے متعلق خدشات کو اجاگر کر رہے ہیں، تاہم اس بارے میں مختلف سیاسی حلقوں کی رائے الگ الگ ہے۔
سابق انتخابی عہدیدار کی رائے
فیڈرل الیکشن کمیشن کے سابق ریپبلکن چیئرمین ٹریور پوٹر نے ٹرمپ کے طرزِ عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 2020 کے انتخابی نتائج کو مسلسل چیلنج کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ نے ان عہدیداروں کو بھی ہدف بنایا جو ان کے انتخابی دعوؤں سے متفق نہیں تھے، تاہم یہ تجزیہ ٹریور پوٹر کی ذاتی رائے ہے۔
چین پر سخت مؤقف یا سیاسی حکمت عملی؟
مبصرین کے مطابق چین کے خلاف سخت بیانات سے ٹرمپ ایک طرف قومی سلامتی کے معاملے پر اپنی سخت گیر شبیہ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری جانب وہ اپنی انتخابی مہم میں 2020 کے انتخابات سے متعلق اپنے مؤقف کو بھی دوبارہ نمایاں کر رہے ہیں۔ تاہم چین کی جانب سے ان الزامات پر مختلف مواقع پر تردید کی جاتی رہی ہے، اور ان دعوؤں کے بارے میں حتمی حقیقت کے لیے آزاد اور مستند شواہد ضروری ہیں۔







