
نئی دہلی : مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے کہا ہے کہ ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین بھارتی ریلوے کی جدیدکاری اور صاف توانائی کے استعمال کی سمت ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ وزیر اعظم نریندر مودی کے جدید، ماحول دوست اور خود کفیل ریلوے کے وژن کا اہم حصہ ہے، جب کہ اس میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی مکمل طور پر دیسی ہے اور “آتم نربھر بھارت” مہم کی بہترین مثال پیش کرتی ہے۔خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے اشونی ویشنو نے کہا کہ دنیا بھر کی طرح بھارت بھی ہائیڈروجن کو مستقبل کے صاف ایندھن کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ اسی سوچ کے تحت حکومت نے ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی ریلوے نے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے 2400 کلو واٹ کا مکمل ہائیڈروجن پروپلشن سسٹم تیار کیا ہے، جسے اس نئی ٹرین میں نصب کیا گیا ہے۔
مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر ہندوستان میں تیار کی گئی ہے اور اس کے تمام باضابطہ حقوقِ دانش (انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس) بھارت کے پاس ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور اسے دیگر ممالک کو برآمد کرنے کے امکانات بھی موجود ہیں، جس سے بھارت عالمی سطح پر گرین ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی مضبوط موجودگی درج کرا سکے گا۔اشونی ویشنو نے مزید کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی ریلوے کو جدید بنانے کے لیے مسلسل کام کیا گیا ہے۔ نئی وندے بھارت ٹرینیں، ریلوے اسٹیشنوں کی ازسرنو ترقی، جدید سگنلنگ سسٹم اور اب ہائیڈروجن ٹرین جیسے منصوبے اسی وسیع اصلاحاتی مہم کا حصہ ہیں۔
بھارتی ریلوے کے مطابق ہائیڈروجن فیول سیل سے چلنے والی اس ٹرین کا ابتدائی آپریشن شمالی ریلوے کے جیند-سونی پت ریلوے سیکشن پر شروع کیا جائے گا۔ یہ ٹرین جیند جنکشن، گوہانہ جنکشن اور سونی پت کو آپس میں جوڑے گی۔ اس کے علاوہ راستے میں واقع متعدد اسٹیشنوں اور ہالٹس، جن میں جیند سٹی، پانڈو پنڈارا جنکشن، للت کھیڑا ہالٹ، بھمبیوا، اساپور کھیڑی ہالٹ، بٹانہ ہالٹ، کھنڈرائی ہالٹ، ربراہ ہالٹ، لاتھ ہالٹ، موہانہ، بروسنی ہالٹ اور سونی پت نیو شامل ہیں، پر بھی اس کی خدمات دستیاب ہوں گی۔
اس ہائیڈروجن ٹرین کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اسے 10 کوچوں پر مشتمل مسافر ٹرین کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جس میں تقریباً 2600 مسافروں کے سفر کی گنجائش ہوگی۔ اس کے برعکس دنیا کے مختلف ممالک میں اس وقت چلنے والی بیشتر ہائیڈروجن ٹرینیں صرف دو یا تین کوچوں پر مشتمل ہیں اور انہیں عموماً مختصر فاصلے کی علاقائی ریلوے سروس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ثابت ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ بھارت ماحول دوست ریلوے نظام کی جانب ایک بڑی پیش رفت بھی حاصل کرے گا، جو مستقبل میں پائیدار نقل و حمل کے شعبے میں ملک کی نئی شناخت بن سکتی ہے۔







