
مظفرپور: بہار کے ضلع مظفرپور میں گیس پائپ لائن سے گیس کے اخراج کے باعث سات اسکولی طالبات بے ہوش ہو گئیں۔ یہ واقعہ مظفرپور-پوسہ روڈ پر مُسہری بلاک کے رہوا گاؤں کے قریب پیش آیا۔ تمام طالبات پلس ٹو رہوا ہائی اسکول کی طالبات ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں افرا تفری مچ گئی۔
کھدائی کے دوران گیس پائپ لائن کو نقصان
اطلاعات کے مطابق رہوا گاؤں کے قریب بہار اربن انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن (BUDCO) کی جانب سے نالے کی تعمیر کا کام چل رہا تھا۔ اسی دوران جے سی بی مشین سے کھدائی کرتے وقت زمین کے اندر سے گزرنے والی قدرتی گیس (پی این جی) کی پائپ لائن کو نقصان پہنچ گیا، جس کے باعث گیس کا اخراج شروع ہوگیا۔ اسی وقت وہاں سے گزرنے والی سات طالبات زہریلی گیس کی زد میں آگئیں اور ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔ کچھ ہی دیر میں تمام طالبات بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔
پانچ طالبات کی حالت تشویشناک
مقامی لوگوں نے فوری طور پر تمام طالبات کو اُٹھا کر مُسہری پرائمری ہیلتھ سینٹر پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں اور نرسوں نے علاج شروع کیا۔ اسپتال میں کافی دیر تک افرا تفری کی صورت حال بنی رہی۔ ڈاکٹروں کے مطابق دو طالبات کی حالت بہتر ہے اور ان کا علاج پرائمری ہیلتھ سینٹر میں جاری ہے۔ حالانکہ، پانچ طالبات، ناہدہ خاتون، امریتا کماری، راکھی کماری، دیویا کماری اور وشاکھا کماری کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں بہتر علاج کے لیے شری کرشن میڈیکل کالج و اسپتال، مظفرپور منتقل کر دیا گیا۔ پانچوں طالبات کو ایمبولینس کے ذریعے میڈیکل کالج بھیجا گیا۔
پولیس اور تکنیکی ٹیم موقع پر پہنچی
واقعے کی اطلاع ملتے ہی طالبات کے اہل خانہ اسپتال پہنچ گئے اور اپنی بچیوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہوگئے۔ مقامی سماجی کارکن نیرج کمار مشرا نے بتایا کہ بہار اربن انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے مظفرپور سے مُسہری ہوتے ہوئے آگے تک بڑے نالے کی تعمیر کی جا رہی ہے، جبکہ اسی راستے سے قدرتی گیس کی پائپ لائن بھی گزرتی ہے۔ ان کے مطابق جے سی بی سے کھدائی کے دوران پائپ لائن کو نقصان پہنچنے کے باعث گیس کا اخراج ہوا، جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد مُسہری تھانے کی پولیس اور انتظامی افسران موقع پر پہنچ گئے اور صورت حال کا جائزہ لیا۔ ادھر انڈین آئل کے تکنیکی افسران اور عملہ بھی جائے وقوع پر پہنچا اور گیس کے اخراج کو روکنے کا کام شروع کر دیا۔ فی الحال پولیس اور انتظامیہ پورے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔






