
نئی دہلی: نجی خلائی اسٹارٹ اپ اسکائی روٹ ایرو اسپیس نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ہاتھ سے لکھا ہوا ایک خصوصی پوسٹ کارڈ، جس پر ’وندے ماترم‘ درج ہے، 18 جولائی کو کمپنی کی وکرم-1 آزمائشی پرواز کے ذریعے خلا میں بھیجا جائے گا۔ کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں بتایا کہ اس مشن کے خصوصی پے لوڈ میں وزیر اعظم مودی کا ہاتھ سے لکھا گیا پیغام بھی شامل ہوگا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی ٹیم، سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں اور دنیا بھر کے خیر خواہوں کے ہاتھ سے لکھے ہوئے پیغامات بھی اس مشن کا حصہ ہوں گے۔
’مشن آگمن‘ میں عوامی جذبات کی نمائندگی
اسکائی روٹ ایرو اسپیس نے کہا، ’وکرم-1 کی آزمائشی پرواز کے پے لوڈ میں ایک نہایت خاص چیز شامل ہے، وزیر اعظم نریندر مودی کا ہاتھ سے لکھا ہوا پوسٹ کارڈ، جس پر ’وندے ماترم‘ تحریر ہے۔‘‘ کمپنی کے مطابق یہ تمام یادگاری تحریریں ’مشن آگمن‘ کا حصہ ہیں، جسے اس نے ’بہت سے ہاتھوں کے تعاون اور لاکھوں لوگوں کی مشترکہ خوشی کا جشن‘ قرار دیا ہے۔ اسکائی روٹ کا کہنا ہے کہ یہ ہاتھ سے لکھے گئے پیغامات بھارت کے فروغ پاتے ہوئے نجی خلائی نظام کے لیے اجتماعی حمایت کی علامت ہیں اور وکرم-۱ مشن کے ساتھ خلا کا سفر کریں گے۔
ٹیکنالوجی کے مظاہرے کے لیے متعدد خصوصی پے لوڈ
یادگاری اشیا کے علاوہ وکرم-۱ میں کوسمو سَرو، ڈی کیوبڈ اور خود اسکائی روٹ کے اسکوپ پروگرام سے متعلق ٹیکنالوجی کے مظاہرے کے لیے خصوصی پے لوڈ بھی شامل کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی کوسموس ڈائمنڈز کی تیار کردہ تخلیق ’کاسمک بلوم‘ اور ایک مائیکرو آرٹ پے لوڈ بھی اس مشن کا حصہ ہوگا۔
بھارت کے نجی خلائی شعبے کے لیے تاریخی قدم
وکرم-1، اسکائی روٹ ایرو اسپیس کا پہلا مداری لانچ وہیکل ہے، جسے بھارت کے نجی خلائی شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مشن کا مقصد ملک میں تیار کیے گئے اس لانچ وہیکل کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا اور بھارت کے تجارتی خلائی اہداف کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ کمپنی نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ 18 جولائی کو ستیش دھون خلائی مرکز کے پہلے لانچ پیڈ سے وکرم-۱ کی پہلی آزمائشی پرواز کی کوشش کرے گی۔ یہ بھارت کی سرزمین سے کسی نجی طور پر تیار کیے گئے مداری درجے کے راکٹ کی پہلی پرواز ہوگی۔
تمام ضروری منظوریوں کی تکمیل
کمپنی کے مطابق فضائی حدود اور سمندری راستوں سے متعلق تمام ضروری منظوری حاصل کر لی گئی ہیں۔ متعلقہ حکام نے راکٹ کی پرواز اور اس کے متوقع گرنے کے راستے کے مطابق ممنوعہ علاقے بھی مقرر کر دیے ہیں اور اس حوالے سے تمام ضروری نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔





