
یوپی میں گرام پردھانوں کوایڈمنسٹریٹرکے طورپرمقررکرنے کے اترپردیش حکومت کے فیصلے کوچیلنج کرنے والے ایک معاملے کی سماعت ملتوی کردی گئی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ لکھنؤ بنچ کی ایک ڈویژن بنچ پہلے ہی اس معاملے کی سماعت کررہی ہے، اس لئے اس مرحلے پرہائی کورٹ کی سنگل بنچ کے سامنے کیس کی سماعت ممکن نہیں ہے۔
جسٹس سوربھ شیام شمشیری کی سنگل بنچ، جواس کیس کی سماعت کر رہی تھی، نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ہی زیرسماعت ہے۔ جس کے بعد ہائی کورٹ نے درخواست کی سماعت 6 ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی۔ یہ مقدمہ گرام پردھانوں کویوپی حکومت کے ذریعہ ایڈمنسٹریٹربنانے کے فیصلے کوچیلنج کرتا ہے۔ بلیا کی راج کماری دیوی اورسہارنپورکے اروند راٹھورنے الگ الگ درخواستیں دائرکی تھیں۔ دونوں درخواستوں کوایک ساتھ جوڑدیا گیا تھا۔
ایڈمنسٹریٹرکے طورپرکام جاری رکھنے کی اجازت نہیں
اس سے قبل گزشتہ سماعت میں ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ پردھان کو ایڈمنسٹریٹرکے طورپرکام جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے کہا کہ انہیں ایڈمنسٹریٹرمقررکرنا ڈویژن بنچ کے حکم کی خلاف ورزی اورتوہین عدالت کے مترادف ہے۔ سماعت جسٹس سوربھ شیام شمشیری کی سربراہی میں سنگل بنچ کے سامنے ہوئی۔ قابل ذکربات یہ ہے کہ پچھلی سماعت کے دوران جسٹس سدھارتھ نندن کی سربراہی والی بنچ نے اروند راٹھورکی درخواست پرسماعت کرتے ہوئے 25 مئی 2026 اور26 مئی 2026 کے حکومتی احکامات کوغیرآئینی قراردیا تھا، جس میں الیکشن ملتوی کئے گئے تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ احکامات 1947 کے ایکٹ کی دفعہ 12(3-اے) کے تحت جاری کئے گئے تھے، ایک ایسی شق جسے پہلے ہی پرمود لال پٹیل بنام ریاست اترپردیش میں ہائی کورٹ کی ایک ڈویژن بنچ نے غیرآئینی قراردیا تھا۔
ہائی کورٹ نے حکومت کے فیصلے پرکیا حیرانی کا اظہار
عدالت نے اس بات پرزوردیا کہ آئین کے آرٹیکل 243-ای اور243-کے کے تحت پنچایتوں کی مدت پانچ سال مقررہے اورانتخابات وقت پرہونے چاہئیں۔ ریاستی حکومت نے تاخیرکی وجہ زیر التوا اوبی سی کمیشن کی رپورٹ کوقراردیا۔ عدالت نے حیرت کا اظہارکیا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود اوبی سی کمیشن نے ابھی تک اپنی رپورٹ پیش نہیں کی۔ ریاستی الیکشن کمیشن نے عدالت کومطلع کیا کہ ووٹرلسٹ 10 جون 2026 کوجاری کی گئی تھی اوروہ انتخابات کرانے کے لئے تیارتھے، لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے ضروری لاجسٹکس کی کمی کی وجہ سے اس عمل میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔







