
نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی اپنے تین ملکی غیر ملکی دورے کے آخری مرحلے میں نیوزی لینڈ پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کے چھ روزہ دورے کا آج آخری دن ہے۔ آکلینڈ کے گورنمنٹ ہاؤس میں ان کا پرتپاک اور باوقار استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر نیوزی لینڈ کی مقامی ماؤری روایت کے مطابق روایتی “پوہیری” استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جو ملک کی قدیم ثقافت، روایات اور اقدار کی عکاسی کرتی ہے۔یہ دورہ کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ تقریباً چار دہائیوں بعد کسی بھارتی وزیر اعظم کا یہ نیوزی لینڈ کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو نئی رفتار ملے گی۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا آکلینڈ کے گورنمنٹ ہاؤس میں پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں انہیں نیوزی لینڈ کی مقامی ماؤری تہذیب اور ثقافتی ورثے کی علامت روایتی پوہیری تقریب کے ذریعے اعزاز بخشا گیا۔
وزیر اعظم مودی جمعہ کی شام مقامی وقت کے مطابق آکلینڈ پہنچے تھے، جہاں نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن نے خود ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔ اس استقبال کو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے سفارتی تعلقات اور باہمی اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔نیوزی لینڈ پہنچنے کے فوراً بعد وزیر اعظم مودی نے بھارتی برادری سے ملاقات کی۔ اس موقع پر مقامی بھارتی کمیونٹی نے پنجاب، تمل ناڈو اور کرناٹک کی روایتی ثقافت پر مبنی رنگا رنگ ثقافتی پروگرام پیش کیے۔ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے فیوژن، “وندے ماترم” کی دھن اور مختلف ریاستوں کی روایتی پیشکشوں نے تقریب کو یادگار بنا دیا اور نیوزی لینڈ میں مقیم بھارتی برادری کے اپنے ثقافتی ورثے سے مضبوط تعلق کو اجاگر کیا۔
وزیر اعظم مودی نے تقریب کی تصاویر اور جھلکیاں “ایکس” پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ آکلینڈ میں کمیونٹی استقبالیہ کے دوران بھارت کی شاندار ثقافتی وراثت کا بھرپور جشن دیکھ کر انہیں بے حد خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم بھارتی برادری نسلوں اور سرحدوں سے ماورا ہو کر بھارتی ثقافت کو زندہ رکھے ہوئے ہے اور بھارت و نیوزی لینڈ کے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔انہوں نے “ناد ووکل اینسمبل” کی موسیقی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ موسیقی میں لوگوں کو قریب لانے اور عالمی دوستی کو فروغ دینے کی منفرد طاقت ہوتی ہے، جبکہ آکلینڈ میں ہونے والی یہ خوبصورت پیشکش بھارت اور نیوزی لینڈ کی گہری دوستی کی بہترین عکاس ہے۔وزیر اعظم مودی کے دورہ آکلینڈ کے دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا بھی امکان ہے، جن میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے اور تاریخی، ثقافتی و عوامی روابط کو نئی بلندیوں تک پہنچانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔







