
نئی دہلی: پولینڈ کے نائب وزیر خارجہ ولادیسلاو بارٹوشیفسکی نے عالمی سطح پر وزیراعظم نریندر مودی کے مثبت کردار کی بھرپور تعریف کی ہے۔ آئی اے این ایس سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے روس کو یوکرین پر جوہری حملہ کرنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ بھارت اور پولینڈ کے خوشگوار اور دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے بارٹوشیفسکی نے کہا، “بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں اور ہم دنیا میں بھارت کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں۔”
روس-یوکرین جنگ میں بھارتی وزیراعظم کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، “جیسا کہ میں نے نئی دہلی میں اپنے ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا، وزیراعظم مودی نے 2022 کے آخر میں صدر ولادیمیر پوتن سے بات چیت کی تھی اور انہیں یوکرین میں ٹیکٹیکل نیوکلیئر ڈیوائس کے استعمال کی کوشش سے روکا تھا۔ یہ ایک مثبت کردار تھا جو وزیراعظم مودی نے ادا کیا، اور یہی وہ کردار ہے جو بھارت عالمی معاملات میں نبھاتا آ رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔”
وزیراعظم مودی کے پولینڈ کے دورے کو یاد کرتے ہوئے بارٹوشیفسکی نے کہا،“2024 میں ہم نے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ وہ بھارت کے وزیر اعظم کی حیثیت سے پولینڈ کا دورہ کرنے والے گزشتہ 45 برسوں میں پہلے بھارتی وزیراعظم تھے۔ یہ ایک انتہائی کامیاب اور مثبت دورہ تھا۔ اب ہم نے یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) بھی کیا ہے، جس کا ہم بھی حصہ ہیں۔ میں ابھی وزارت خارجہ سے واپس آیا ہوں، جہاں ہم نے فوجی تعاون، ڈیجیٹل صنعت، سکیورٹی امور، ہائی ٹیک آئی ٹی سرمایہ کاری، خلائی تعاون اور دیگر کئی عملی اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔”
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بھارت نے دیگر ممالک کے مقابلے امریکہ کے ساتھ زیادہ فائدہ مند تجارتی معاہدہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا، “میرا خیال ہے کہ بھارت ایک بہت بڑی معاشی طاقت ہے۔ اس وقت آپ دنیا میں جی ڈی پی کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہیں، اور وزیراعظم مودی نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت کا ہدف بہت جلد دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننا ہے۔ بھارت ایک بہت بڑی منڈی ہے جہاں تقریباً ڈیڑھ ارب لوگ رہتے ہیں، اور اسی وجہ سے یہ ایک نہایت ترقی یافتہ مارکیٹ بھی ہے۔ اتنی صلاحیت رکھنے والے ملک کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔”
بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پر بات کرتے ہوئے پولینڈ کے نائب وزیر خارجہ نے کہا، “تجارتی معاہدہ نہ ہونے کے مقابلے میں تجارتی معاہدہ ہونا بہتر ہے، کیونکہ عام طور پر ٹیرف خوشحالی کی ضمانت نہیں دیتے۔ جب کسی شے پر ٹیرف لگایا جاتا ہے تو آخرکار اس کا بوجھ صارف کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی لیے میرا ماننا ہے کہ جتنے کم ٹیرف ہوں، اتنا ہی بہتر ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ بھارت اور امریکہ ایسے معاہدے پر پہنچے ہیں جس کے تحت ٹیرف میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔”
ادھر وزارت خارجہ (ایم ای اے) میں سکریٹری (مغربی) سبی جارج نے جمعرات کے روز نئی دہلی میں ولادیسلاو بارٹوشیفسکی کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی۔ اس اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا گیا اور 2024 تا 2028 کے ایکشن پلان کے اہم اہداف پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔






