
لکھنؤ: ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں میں شمار ہونے والے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ لکھنؤ کے سالانہ مہوتسو مین فیسٹ–ورچسوا کے تحت منعقدہ لیڈرز ایکسپریس سیشن میں سروجنی نگر اسمبلی حلقے کے رکنِ اسمبلی ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے ایم بی اے کے طلبہ، تحقیقی اسکالرز، فیکلٹی اراکین اور آؤٹ ریچ اساتذہ سے خطاب کیا۔ یہ سیشن قیادت، انتظام، عوامی پالیسی اور قوم کی تعمیر کے باہمی تعلق پر مبنی ایک فکر انگیز اور متاثر کن مکالمے کے طور پر سامنے آیا۔ اپنے خطاب کے آغاز میں ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے آئی آئی ایم لکھنؤ کی عالمی شناخت اور تعلیمی برتری کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ محض ڈگریاں فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ طلبہ میں ذمہ داری، نظم و ضبط اور قائدانہ اقدار پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ این آئی آر ایف رینکنگ 2025 میں پانچواں مقام، تمام آئی آئی ایمز میں چوتھی پوزیشن، فنانشل ٹائمز ماسٹرز اِن مینجمنٹ میں عالمی سطح پر ستاونواں درجہ، اور اے اے سی ایس بی، ایم بی اے اور ایکویس جیسی بین الاقوامی منظوریوں نے ادارے کے معیار کو ثابت کیا ہے۔ ان کے مطابق آئی آئی ایم لکھنؤ خیالات کی تجربہ گاہ اور عالمی قیادت کا مرکز ہے۔
یہ نشست محض نظری گفتگو تک محدود نہ رہی۔ ڈاکٹر سنگھ نے اپنی ذاتی زندگی کے تجربات بیان کرتے ہوئے انجینئرنگ سے پولیس سروس، پھر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور اس کے بعد عوامی زندگی تک کے سفر کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر یقینی حالات، دباؤ اور ذمہ داریوں نے انہیں مسلسل سیکھنے اور آگے بڑھنے کی تحریک دی۔ ان کے مطابق زندگی پہلے سے طے شدہ منصوبوں کے بجائے موافقت، دیانت داری اور سیکھنے کے جذبے سے آگے بڑھتی ہے۔ کارپوریٹ اور عوامی قیادت کے فرق پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے سیاست کو انتظامیہ کی سب سے مشکل شکل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک عوامی نمائندے کو وژنری قیادت، منصوبہ بندی، بحران سے نمٹنے، اسٹیک ہولڈر رابطے اور عوامی شکایات کے ازالے جیسے کئی کردار ایک ساتھ نبھانے پڑتے ہیں۔ انہوں نے چوالیس سے زائد محکموں میں ترقیاتی کاموں کی نگرانی اور سو سے زیادہ سرکاری اسکیموں کے نفاذ کا حوالہ دیا۔
عوامی شکایات کے ازالے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی قیادت کی بنیاد زمینی رابطے پر ہوتی ہے۔ مسلسل فالو اپ، محکماتی تال میل اور حساس حکمرانی کو انہوں نے کامیاب قیادت کا لازمی جزو قرار دیا۔ روزمرہ مثالوں کے ذریعے انہوں نے واضح کیا کہ قیادت صرف بڑے منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ عام شہری کی چھوٹی مشکلات کے حل سے بھی جڑی ہے۔ سماجی اثرات کے موضوع پر ڈاکٹر سنگھ نے جامع اور منصفانہ ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے معاشی عدم مساوات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کا فائدہ سماج کے کمزور ترین طبقے تک پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے مینجمنٹ کے طلبہ سے اپیل کی کہ مستقبل میں ایسے فیصلے کریں جن سے ہر طبقہ ساتھ آگے بڑھے، کیونکہ مراعات کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ ریاست اور قوم کے مستقبل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ڈیجیٹل تعلیم، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور تکنیکی تیاری کو اہم ترجیحات قرار دیا۔ مصنوعی ذہانت اور تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے نوجوانوں کو مستقبل کے لیے تیار کرنے پر زور دیا۔ اتر پردیش میں اسمارٹ کلاس رومز، آئی سی ٹی لیبز اور لاکھوں طلبہ کو ٹیبلٹ و لیپ ٹاپ فراہم کرنے جیسی اسکیموں کا بھی انہوں نے ذکر کیا۔

حکمرانی اور انتظام کے درمیان مماثلت بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے سروجنی نگر میں چلنے والی کمیونٹی کچن، خواتین خود امدادی گروپوں کے سلائی مراکز اور ڈیجیٹل بااختیاری مراکز کی مثالیں پیش کیں۔ انہوں نے انہیں آپریشنل ایکسیلنس اور پائیدار سماجی اثرات کے عملی نمونے قرار دیا۔ طلبہ کے سوالات کے جواب میں انہوں نے صبر، مضبوط بنیاد، قانونی آگاہی اور اخلاقی نظم و ضبط کو کامیابی کی کنجی بتایا۔ انہوں نے مستقبل کے کارپوریٹ لیڈرز کو اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کی سمجھ رکھنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ایمانداری اور محنت سب سے بڑی دولت ہیں۔ اختتام پر ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے کامیاب پیشہ ور افراد سے اپیل کی کہ وہ عوامی زندگی میں آ کر پالیسی سازی کو مضبوط بنائیں۔ اس موقع پر ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر ایم پی گپتا، پی جی پی چیئر پروفیسر آلوک دیکشت، ڈین پروگرامز پروفیسر سنجے کمار سنگھ اور دیگر معزز اساتذہ موجود تھے۔ یہ سیشن آئی آئی ایم لکھنؤ میں قدر پر مبنی قیادت کے فروغ کی ایک مضبوط مثال بن کر ابھرا۔





