
لنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت حملہ کرتے ہوئے چیلنج دیا کہ اگر اس میں ہمت ہے تو ریاست میں حکومت بنا کر دکھائے۔ انہوں نے یہ بات مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے ان پرانے بیانات کے حوالے سے کہی، جن میں کہا گیا تھا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے پر تلنگانہ میں اقلیتوں کو ملنے والا چار فیصد ریزرویشن ختم کر دیا جائے گا۔
ہیٹ اسپیچ پر قانون
وزیرِ اعلیٰ نے اقلیتوں کی حمایت، ہیٹ اسپیچ پر قانون اور مسلم ریزرویشن جیسے معاملات پر براہِ راست مرکزی حکومت اور وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مجوزہ قانون ریاستی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق ملک میں امن و ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ یہ بیان ریونت ریڈی نے حیدرآباد میں جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام منعقدہ ایک پروگرام کے دوران دیا۔
امت شاہ کو کھلا انتخابی چیلنج
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو کھلا انتخابی چیلنج دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی میں دم ہے تو امت شاہ خود انتخاب لڑ کر تلنگانہ میں اقتدار حاصل کر کے دکھائیں۔ وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی صرف بیان بازی کرتی ہے، جبکہ تلنگانہ کی عوام حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔
جمعیۃ علماء ہند کا شکریہ
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے جمعیۃ علماء ہند کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکاجگیری لوک سبھا انتخاب اور تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں جمعیۃ علماء ہند نے ان کی حمایت کی، جس کے لیے وہ تنظیم کے شکر گزار ہیں۔
مسلم ریزرویشن پر بڑا بیان
وزیر اعلیٰ نے مسلم ریزرویشن کے حوالے سے بھی اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت اقلیتوں کی حمایت سے بنی ہے اور ان کی حکومت اقلیتوں کے حقوق کی مکمل حفاظت کرے گی۔ ریونت ریڈی نے واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو تلنگانہ حکومت سپریم کورٹ کو مسلم آبادی سے متعلق مکمل ڈیٹا فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم آبادی سے متعلق تمام اعداد و شمار گزشتہ برس کرائی گئی ذات پر مبنی مردم شماری کے دوران جمع کیے گئے تھے۔ وزیرِ اعلیٰ نے امت شاہ کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ مسلمانوں کو ملنے والا 4 فیصد ریزرویشن ختم کر کے دکھائیں۔ اس دوران وزیرِ اعلیٰ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ان کی حکومت نفرت پھیلانے والی تقاریر کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلے کرتی رہے گی اور ریاست میں امن، بھائی چارہ اور قانون و نظم و نسق برقرار رکھنا اس کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔





