
ویتنام کے سیاحتی جزیرے فو کوک کے قریب پیش آنے والے المناک اسپیڈ بوٹ حادثے میں جان گنوانے والے 15 بھارتی سیاحوں کی میتیں پیر کے روز بھارت روانہ کی جائیں گی۔ ہنوئی میں قائم بھارتی سفارت خانے نے اس حوالے سے باضابطہ معلومات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تمام میتوں کو ویتنام ایئرلائنز کی پرواز وی این-979 کے ذریعے ہو چی منہ سٹی سے ممبئی بھیجا جائے گا۔ یہ پرواز مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے روانہ ہوگی اور بھارتی وقت کے مطابق رات 9 بج کر 35 منٹ پر چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے، ممبئی پہنچے گی۔بھارتی سفارت خانے کے مطابق متاثرہ ریاستوں کی حکومتوں کو پہلے ہی اس حوالے سے مطلع کر دیا گیا ہے اور ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے میتوں کو ان کے آبائی علاقوں تک باعزت پہنچانے کے لیے تمام ضروری انتظامات کریں۔ سفارت خانے نے حادثے میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہنوئی میں بھارتی سفارت خانہ اور ہو چی منہ سٹی میں بھارتی قونصل خانہ ہر ممکن تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والے 15 بھارتی شہریوں میں 10 کا تعلق ریاست تمل ناڈو، تین کا آندھرا پردیش اور دو کا کیرالہ سے تھا۔ مرنے والوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں، جس کے باعث مختلف ریاستوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔یہ افسوسناک حادثہ گزشتہ جمعہ کو اس وقت پیش آیا تھا جب 32 بھارتی سیاحوں اور عملے کے چار مقامی ارکان کو لے جانے والی ایک اسپیڈ بوٹ فو کوک جزیرے کے قریب ہون می رُت نگوئی کے ساحلی علاقے میں اچانک الٹ گئی۔ حادثے کے نتیجے میں 15 بھارتی سیاح ہلاک ہوگئے، جبکہ 16 دیگر کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ زخمیوں کو علاج کے بعد بھارت واپس بھیج دیا گیا ہے، تاہم ایک زخمی سیاح اب بھی فو کوک کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ویتنامی حکام کے مطابق حادثے کی اصل وجہ کا ابھی تک تعین نہیں ہو سکا ہے۔ حکومت نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کشتی کس وجہ سے الٹی۔ ویتنام کے معروف نیوز پورٹل وی این ایکسپریس انٹرنیشنل کے مطابق اسپیڈ بوٹ کے آپریٹر کو اتوار کے روز حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔فو کوک ویتنام کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جو اپنے سفید ریتیلے ساحلوں، مرجانی چٹانوں اور دلکش سمندری سیر و تفریح کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں میں بے حد مقبول سمجھا جاتا ہے۔ اس افسوسناک حادثے کے بعد وہاں سیاحتی سرگرمیوں کی حفاظتی انتظامات پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔






