
نئی دہلی : مرکزی حکومت نے جمعہ کے روز کہا کہ اگر پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ نہ کی جاتی تو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران ملک میں پٹرول کی قیمت 125 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی تھی۔ حکومت کے مطابق ایتھنول بلینڈنگ پروگرام کی بدولت صارفین کو فی لیٹر تقریباً 30 روپے تک کی بچت ہوئی، جس سے نہ صرف عوام کو راحت ملی بلکہ ملک کی توانائی سلامتی بھی مضبوط ہوئی۔پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کے مطابق، بحران کے دوران جب ہندوستانی خام تیل (انڈین کروڈ باسکٹ) کی قیمت تقریباً 135 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، اس وقت اندازہ لگایا گیا تھا کہ اگر پٹرول میں ایتھنول شامل نہ ہوتا تو قومی دارالحکومت دہلی میں اس کی خوردہ قیمت تقریباً 125 روپے فی لیٹر ہو سکتی تھی۔وزارت نے بتایا کہ اس کے باوجود یوزر نے صرف 94.77 روپے فی لیٹر کی قیمت ادا کی، کیونکہ فروخت ہونے والے ہر لیٹر پٹرول میں 20 فیصد حصہ ملک میں تیار کیے گئے ایتھنول کا تھا، جسے پہلے سے طے شدہ مستحکم قیمتوں پر خریدا گیا تھا۔ حکومت کے مطابق یہی فرق یوزرکے لیے بڑی مالی بچت کا سبب بنا۔
وزارت نے کہا کہ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ ایتھنول بلینڈنگ پروگرام بھارت کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے میں کس قدر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے درآمدی خام تیل پر انحصار کم ہوتا ہے اور ایندھن پر ہونے والے اخراجات کا ایک بڑا حصہ ملکی معیشت کے اندر ہی گردش کرتا رہتا ہے۔حکومت کے مطابق ایتھنول ملاوٹ شدہ پٹرول پروگرام خوراک کی سلامتی، کسانوں کی فلاح اور توانائی سلامتی کے درمیان متوازن نظام قائم کرتا ہے۔ خوراک اور عوامی تقسیم کے محکمے کی جانب سے تمام غذائی ضروریات پوری ہونے کے بعد ہی اضافی اناج کو ایتھنول کی تیاری کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔وزارت نے واضح کیا کہ عوامی تقسیم نظام(پی ڈی ایس) ، قومی غذائی تحفظ قانون، فلاحی اسکیموں اور لازمی بفر اسٹاک کے لیے مختص اناج کو اس وقت تک ایتھنول کی تیاری میں استعمال نہیں کیا جاتا جب تک غذائی تحفظ کی تمام ضروریات پوری نہ ہو جائیں۔ اس پروگرام میں خراب، ٹوٹے ہوئے یا انسانی استعمال کے قابل نہ رہنے والے اناج کو ترجیح دی جاتی ہے۔حکومت کے مطابق ایتھنول بلینڈنگ پروگرام کے ذریعے خام تیل کی درآمد میں کمی آئی ہے، جس سے بھارت کو اب تک 1.97 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی 950 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں بھی کمی آئی ہے۔
وزارت نے مزید بتایا کہ اس پروگرام کے تحت کسانوں اور ڈسٹلریز کو 1.66 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگی کی جا چکی ہے، جس سے زرعی پیداوار کے لیے ایک مستحکم گھریلو منڈی قائم ہوئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ چونکہ بھارت اپنی تیل کی ضرورت کا تقریباً 88 فیصد درآمد کرتا ہے، اس لیے ایتھنول بلینڈنگ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے تحفظ فراہم کرنے والی ایک مؤثر حکمت عملی ثابت ہو رہی ہے۔





