
وزیر اعظم نریندر مودی یکم اگست 2026 کو آندھرا پردیش اور کرناٹک کے اہم دورے پر رہیں گے۔ اس دوران وہ بنیادی ڈھانچے، توانائی، ٹرانسپورٹ، صنعت اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے سے متعلق 17,900 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھیں گے۔ ان منصوبوں کا مقصد علاقائی ترقی کو رفتار دینا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور ملک کی مجموعی ترقی کو مزید تقویت فراہم کرنا ہے۔
آلوری سیتارام راجو بین الاقوامی ہوائی اڈے کا افتتاح
وزیر اعظم اپنے دورے کا آغاز آندھرا پردیش کے ضلع وجیان نگرم کے بھوگاپورم سے کریں گے، جہاں وہ نو تعمیر شدہ آلوری سیتارام راجو بین الاقوامی ہوائی اڈے کا افتتاح کریں گے۔ تقریباً 5,640 کروڑ روپے کی لاگت سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کے تحت تعمیر کیا گیا یہ گرین فیلڈ ایئرپورٹ ہر سال تقریباً 60 لاکھ مسافروں کی آمدورفت سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ہوائی اڈے کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت (AI)، بایومیٹرک مسافر نظام، خودکار بیگیج ہینڈلنگ، ڈیجیٹل آپریشنل نگرانی اور جدید ایئرپورٹ مینجمنٹ سسٹم شامل ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں شمسی توانائی کا پلانٹ، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا نظام، توانائی بچانے والی روشنی، الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشن اور اسمارٹ بلڈنگ مینجمنٹ جیسی گرین سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن
وزیر اعظم وشاکھاپٹنم میں ریاست کی پہلی سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹ کا سنگِ بنیاد بھی رکھیں گے۔ تقریباً 460 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے قائم ہونے والا یہ منصوبہ انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن کے تحت منظور کیا گیا ہے۔ اس سے ہر سال کروڑوں سیمی کنڈکٹر چپس تیار ہوں گی، الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے شعبے کو تقویت ملے گی اور اعلیٰ مہارت پر مبنی روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔
توانائی کے شعبے میں بھی وزیر اعظم کئی اہم منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھیں گے۔ کرنول اور اننت پور کے قابلِ تجدید توانائی زونز سے بجلی کو قومی گرڈ تک پہنچانے کے لیے ہزاروں کروڑ روپے کی ٹرانسمیشن اسکیمیں شروع کی جائیں گی۔ ان منصوبوں سے شمسی اور ہوائی توانائی کے زیادہ مؤثر استعمال کو فروغ ملے گا، فوسل ایندھن پر انحصار کم ہوگا اور بھارت کے گرین انرجی اہداف کو مزید تقویت ملے گی۔اس کے علاوہ تقریباً 1,880 کروڑ روپے کی قومی شاہراہوں سے متعلق متعدد منصوبوں کا بھی افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا جائے گا، جن میں گرین فیلڈ ایکسیس کنٹرول ہائی وے، تڈی پتری بائی پاس اور لنگا سمودرم میں بلند سطحی پل شامل ہیں۔ ان منصوبوں سے وجئے واڑہ سمیت کئی شہروں میں ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا، سڑکوں کی حفاظت بہتر ہوگی اور وشاکھاپٹنم و حیدرآباد کے درمیان سفر کا وقت کم ہو جائے گا، جس سے تجارت، سیاحت اور علاقائی رابطوں کو بھی فروغ ملے گا۔
سوامی وویکانند ثقافتی یوتھ سینٹر – وویک اسمارک
آندھرا پردیش کے پروگراموں کے بعد وزیر اعظم کرناٹک کے شہر میسور پہنچیں گے، جہاں وہ سوامی وویکانند ثقافتی یوتھ سینٹر – وویک اسمارک کا افتتاح کریں گے۔ یہ مرکز سوامی وویکانند کے 1892 کے تاریخی دورۂ میسور کی یاد میں تعمیر کیا گیا ہے۔ تقریباً 81 ہزار مربع فٹ پر محیط اس جدید مرکز میں 4-ڈی ایکسپیرینس سینٹر، نمائشی ہال، 700 افراد کی گنجائش والا ایمفی تھیٹر، لائبریری، مطالعہ گاہ، یوگا و دھیان ہال، کانفرنس روم اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ مرکز صرف ایک یادگار نہیں بلکہ نوجوانوں کی ہمہ جہت شخصیت سازی کا پلیٹ فارم ہوگا، جہاں سوامی وویکانند کے افکار سے متاثر لیکچرز، تربیتی پروگرام، قیادت سازی، شخصیت کی تعمیر اور اقدار پر مبنی تعلیم سے متعلق مختلف سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔ توقع ہے کہ اس سے اطراف کے تعلیمی اداروں کے دس ہزار سے زائد طلبہ اور دیہی و شہری نوجوان براہِ راست مستفید ہوں گے۔





