
مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع تاریخی بھوج شالا کے عقب میں نماز کی ادائیگی کے لیے انتظامیہ کی مبینہ تیاریوں پر بڑا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ انتظامیہ کے اس فیصلے کے خلاف مقامی رہائشیوں اور کسانوں نے رات گئے شدید احتجاج اور ہنگامہ کیا۔ کسانوں کا الزام ہے کہ جس زمین پر نماز کے انتظامات کیے جا رہے ہیں، وہ ان کی آبائی زرعی زمین ہے۔
مقامی کسان جگدیش نگر اور ابھی نو بجوا کا کہنا ہے کہ سروے نمبر 611 کی زمین پر ان کا خاندان گزشتہ سات نسلوں سے کھیتی باڑی اور باغبانی کرتا آ رہا ہے۔ ان کے مطابق اس زمین کی ملکیت سے متعلق ان کے نام سرکاری ریونیو ریکارڈ اور ٹیکس رسیدوں میں بھی درج ہیں۔ کسانوں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع یا نوٹس کے ان کی لہلہاتی فصلوں والی زمین کو نماز کے لیے مختص کر دیا، جو سراسر ناانصافی ہے۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ زمین بھوج شالا کے بالکل قریب واقع ہے، اس لیے اس فیصلے سے علاقے میں کشیدگی اور تنازع بڑھنے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ رات گئے انتظامیہ اور کسانوں کے درمیان ہونے والی طویل میٹنگ کے بعد حکام نے کسانوں کو دوپہر 12 بجے تک زمین سے متعلق تمام قانونی دستاویزات، ریونیو ریکارڈ اور ٹیکس رسیدیں پیش کرنے کی مہلت دی ہے۔
مقامی رہائشی ابھی نو بجوا نے انتظامیہ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے نماز کے لیے منتخب کی گئی جگہ پر انہیں شدید اعتراض ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی آبائی زمین پر زبردستی نماز ادا کرانے کی کوشش کی گئی یا ان کی فصلوں کو نقصان پہنچایا گیا تو وہ بھرپور احتجاج کریں گے۔کسانوں نے واضح کیا کہ اگر انتظامیہ نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو وہ اس معاملے میں عدالت سے رجوع کریں گے اور قانونی کارروائی کا راستہ اختیار کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی آبائی زمین اور فصلوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی اقدام اٹھائیں گے۔







