
نئی دہلی: شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے 6 باغی اراکین پارلیمنٹ کومنانے کی ایک آخری کوشش بھی ناکام ثابت ہوئی۔ سنجے راوت اوراروند ساونت نے پارلیمانی بورڈ کی ایمرجنسی میٹنگ رکھی تھی، جس میں سبھی 9 اراکین پارلیمنٹ کوشامل ہونے کے لئے وہپ جاری کی گئی تھی۔ حالانکہ میٹنگ میں پہنچے صرف تین ہی اراکین پارلیمنٹ۔ وہی تین، جوپہلے سے پارٹی کے ساتھ بنے ہوئے ہیں۔ باقی 6 باغیوں میں سے کوئی بھی اس میٹنگ میں شامل نہیں ہوا۔
باغی اراکین پارلیمنٹ کے ذریعہ پارٹی کے وہپ کونظراندازکئے جانے پرسنجے راوت برہم ہوگئے اورانہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ پارٹی کی وہپ کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے لئے اراکین پارلیمنٹ سے جواب مانگا جائے گا۔ اگروہ لوک سبھا اسپیکرسے ملے ہیں توتصویردکھائی جائے۔ اس بارایکناتھ شندے اورسبھی 6 اراکین پارلیمنٹ کوبے ایمانی بہت مہنگی پڑے گی۔
دواراکین نے دیا تھا بھروسہ، اب ٹوٹ گئی امید
ادھو ٹھاکرے گروپ کے ذرائع کے مطابق، پارٹی قیادت نے اب امید چھوڑدی ہے۔ اب جب یہ 6 اراکین پارلیمنٹ اس میٹنگ میں نہیں آئے ہیں توان کوباغی اورغدارمانا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، 6 میں سے 2 اراکین پارلیمنٹ مسلسل بھروسہ دے رہے تھے کہ وہ شندے گروپ کے ساتھ نہیں جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق، 3 ماہ پہلے ایک دواراکین پارلیمنٹ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ شندے گروپ کی طرف سے ان سے رابطہ کیا جا رہا ہے، لیکن ادھوگروپ اوران کی پارٹی کے لیڈران کوبھروسہ تھا کہ یہ اراکین اس گروپ کی طرف نہیں جائیں گے۔ حالانکہ گزشتہ کچھ دنوں میں پورا کھیل بدل گیا۔
7 دنوں کے اندروجہ بتاو نوٹس کا دینا ہوگا جواب
وہیں، لوک سبھا میں پارلیمانی پارٹی کے لیڈراروند ساونت نے کہا، “میٹنگ میں شرکت نہ کرنے والے ممبران پارلیمنٹ کووجہ بتاؤنوٹس بھیجے جائیں گے اورانہیں 7 دنوں کے اندرجواب دینا ہوگا۔ اگرکوئی جواب نہیں ملا تومزید کارروائی کی جائے گی۔ اسپیکرکوخط لکھیں گے۔”
سنجے راوت نے سپریم کورٹ کے بارے میں کیا کہا؟
سنجے راوت نے بے حد بڑا بیان دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی پارٹی کے ساتھ آج جوہورہا ہے، اس کا ‘گنہگار’ سپریم کورٹ بھی ہے۔ سنجے راوت کا دعویٰ ہے کہ اگرسپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہوتا توآج یہ نوبت نہیں آتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں جمہوریت کی دھجیاں اڑ رہی ہیں۔ اس کا گنہگارسب سے پہلے سپریم کورٹ بھی ہے اورملک کا الیکشن کمیشن بھی ہے۔







