
حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر ان کی قیادت اپنی پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ کو دوسری جماعتوں میں جانے سے کیوں نہیں روک پا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں اپوزیشن پر سوالات
اسدالدین اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے کئی ارکان پارلیمنٹ بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید دو ’نمایاں‘ ارکان پارلیمنٹ کو بتانا چاہیے کہ آخر ان اراکین کو بی جے پی میں جانے کے لیے کس نے ’دھمکایا‘۔ اویسی نے مغربی بنگال کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹی ایم سی کے دیگر 19 ارکان پارلیمنٹ نے پارٹی کیوں چھوڑی؟ انہوں نے کہا کہ شاید اس کا الزام بھی کسی ایک شخص پر ڈالنے میں ایک مہینہ لگ جائے گا۔
قرآن پاک کا حوالہ، تنظیمی کمزوریوں کا ذکر
اے آئی ایم آئی ایم سربراہ نے اپنے ناقدین کو بے بنیاد الزامات سے گریز کرنے کی تلقین کرتے ہوئے قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیا: ’’ہر طعنہ دینے والے اور عیب جو کے لیے ہلاکت ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنی تنظیمی ناکامیوں کا ذمہ دار کسی ایک شخصیت کو قرار نہیں دے سکتی۔ اویسی نے سوال کیا کہ آخر بی جے پی کے لیے دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنی طرف راغب کرنا اتنا آسان کیوں ہے اور لوگ مسلسل اپنی جماعتیں کیوں چھوڑ رہے ہیں۔ اپنی بات ختم کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے لکھا ’’شکاری نیا ہے، جال پرانا ہے۔‘‘
مہاراشٹر اور مغربی بنگال میں سیاسی ہلچل
مہاراشٹر میں اس وقت ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کے نام سے سیاسی سرگرمیاں تیز ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شیوسینا (یو بی ٹی) کے نو میں سے سات ارکان پارلیمنٹ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا سے رابطے میں ہیں اور ممکنہ طور پر پارٹی تبدیل کر سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، شیوسینا کے رکن قانون ساز کونسل چندرکانت رگھونشی نے دعویٰ کیا ہے کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے چھ ارکان پارلیمنٹ نے ایکناتھ شندے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے دھڑے میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ادھر مغربی بنگال میں 14 جون کو ٹی ایم سی کے 20 باغی ارکان پارلیمنٹ نے اوم برلا سے ملاقات کرکے اپنے گروپ کے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام سے متعلق ایک خط بھی پیش کیا تھا۔







