
فرانس کے شہر ایویان میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے مہمان رکن کے طور پر شرکت کی۔ اس دوران انہوں نے عالمی لیڈروں سے ملاقاتیں کیں اور مختلف اہم بین الاقوامی امور پر بھارت کا نقطۂ نظر پیش کیا۔
عالمی لیڈروں سے ملاقات
وزیر اعظم مودی نے اپنے سرکاری ایکس (X) اکاؤنٹ پر دورے کی جھلکیاں شیئر کیں۔ ان تصاویر اور ویڈیوز میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر، اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی، جرمن چانسلر فریڈرش مرز، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈیر لیین اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سمیت کئی عالمی لیڈروں سے ان کی ملاقاتیں دکھائی گئیں۔
یادگار لمحات شیئر کیے
مودی نے ایک ویڈیو کلپ بھی پوسٹ کیا جس میں سوئٹزرلینڈ کے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال، ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایویان پہنچنے اور جی 7 اجلاس کے مقام پر عالمی لیڈروں سے ملاقات کے مناظر شامل تھے۔ ویڈیو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ گفتگو اور فوٹو سیشن کے لمحات بھی دکھائے گئے۔
اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت
خصوصی مدعو رکن کی حیثیت سے وزیر اعظم مودی نے ایک اعلیٰ سطحی ورکنگ سیشن میں شرکت کی، جس کا موضوع تھا “نئی شراکت داریاں قائم کرنا اور بین الاقوامی یکجہتی کو دوبارہ مضبوط بنانا”۔ اس اجلاس میں جی 7 ممالک کے علاوہ شراکت دار ممالک کے لیڈروں اور عالمی بینک و افریقی ترقیاتی بینک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
امن اور مکالمے پر زور
اپنے خطاب میں مودی نے کہا کہ دنیا کو اس وقت سب سے زیادہ امن اور مذاکرات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں امن کی جانب ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تنازعات کے باعث جانی و مالی نقصان ہوا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی سمندری تجارت بھی متاثر ہوئی، جس کے اثرات عالمی معیشت پر پڑے ہیں۔
بھارتی ملاحوں کی سلامتی کا مسئلہ
وزیر اعظم نے سمندری تجارت سے وابستہ بھارتی ملاحوں کی ہلاکتوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بحری کارکنوں اور ملاحوں کی سلامتی کو یقینی بنانا تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق سمندری راستوں کو محفوظ بنانا ضروری ہے تاکہ ملاح بلا خوف و خطر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
مودی کا یہ دورہ عالمی سطح پر بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے اور اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ بھارت بین الاقوامی معاملات میں اپنی رائے اور مؤقف کو اعتماد کے ساتھ پیش کر رہا ہے۔





