
نئی دہلی: راجیہ سبھا میں 29 مارچ (پیرکے روز) بی جے پی اوبی سی مورچہ کے قومی صدراورراجیہ سبھا رکن ڈاکٹرکے لکشمن نے مسلمانوں کواوبی سی کیٹیگری سے باہرکرنے کا سوال اٹھایا۔ بی جے پی لیڈرکے لکشمن کا ماننا ہے کہ مذہبی بنیاد پرریزرویشن نہیں دیا جانا چاہئے۔ ان کے اس سوال کے بعد اپوزیشن نے واک آوٹ کردیا۔ انہوں نے ریاستوں کی اوبی سی ذاتیوں کو مرکزی اوبی سی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے وقفہ صفرکے دوران یہ موضوع اٹھاتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ، آندھرا پردیش، راجستھان، گجرات اورمہاراشٹرمیں کئی اوبی سی طبقے کوان کی متعلقہ ریاستوں کی اوبی سی فہرست میں تومنظوری ملی ہے، لیکن انہیں ابھی تک اوبی سی ذات کی مرکزی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایوان میں کہا کہ ایسا تب ہوا ہے، جب قومی کمیشن برائے پسماندہ طبقات کی سفارش کی گئی ہے۔ ڈاکٹرلکشمن بی جے پی کی سینٹرل الیکشن کمیٹی (سی ای سی) کے رکن بھی ہیں۔
تلنگانہ-آندھرا پردیش کی ذات کومرکزی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش
ڈاکٹرکے لکشمن نے کہا کہ قومی کمیشن برائے پسماندہ طبقات (این سی بی سی) نے پہلے ہی تلنگانہ کی 27 اورآندھرا پردیش کی پانچ ذات کواوبی سی ذات کومرکزی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حکومت سے گزارش کی کہ ان طبقات کواوبی سی کی مرکزی فہرست میں شامل کرنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں تاکہ انہیں وہ فائدہ اورموقع مل سکے، جن کے وہ صحیح حقدارہیں۔
سینٹرل اوبی سی لسٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ
اس سے پورے ملک میں پسماندہ برادریوں کے لئے زیادہ سماجی انصاف اوربااختیاریت کویقینی بنایا جائے گا۔ ایوان بالا میں مسئلہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی لیڈرکے لکشمن نے کہا کہ مرکزی او بی سی فہرست میں تلنگانہ، آندھرا پردیش، راجستھان، گجرات اورمہاراشٹرکی کئی اوبی سی برادریوں کوشامل کرنے کا ایک مطالبہ کیا جا رہا ہے۔






