
شیئر بازار کے لیے پیر کا دن شدید گراوٹ لے کر آیا۔ جاری مالی سال (2025-26) کے آخری کاروباری دن بی ایس ای سینسیکس اور این ایس ای نفٹی تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔ دن کے اختتام پر سینسیکس 1,635.67 پوائنٹس (2.22 فیصد) گر کر 71,947.55 پر بند ہوا، جبکہ نفٹی 488.20 پوائنٹس (2.14 فیصد) کم ہو کر 22,331.40 کی سطح پر آ گیا۔ دراصل مارکیٹ میں اس بڑی گراوٹ کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی ہے، جس نے عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی اور سپلائی چین کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ سرمایہ کاروں کی گھبراہٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بی ایس ای میں درج کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ ویلیو 422 لاکھ کروڑ روپے سے کم ہو کر 412 لاکھ کروڑ روپے رہ گئی۔
بینکنگ اور دفاعی شعبے میں سب سے زیادہ دباؤ
مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ نفٹی کے تقریباً تمام سیکٹرل انڈیکس سرخ نشان میں بند ہوئے۔ سب سے زیادہ گراوٹ پی ایس یو بینک (4.56 فیصد) اور فنانشل سروسز (3.49 فیصد) میں دیکھی گئی۔ اس کے علاوہ ریئلٹی، دفاعی اور آٹو سیکٹر میں بھی 2 سے 3 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ مڈ کیپ اور اسمال کیپ انڈیکس بھی 2.6 فیصد سے زیادہ گر گئے، جس سے ریٹیل سرمایہ کاروں کو بڑا نقصان ہوا۔ سینسیکس کے 30 میں سے 28 شیئر گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے، جن میں ایس بی آئی، ایچ ڈی ایف سی بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک اور بجاج فنانس نمایاں طور پر خسارے میں رہے، جبکہ صرف ٹیک مہندرا اور پاور گرڈ معمولی اضافے کے ساتھ سبز نشان میں رہے۔
مالی سال کے آخری دن کی صورتحال
ماہرین کے مطابق مارکیٹ کی شروعات ہی بھاری گراوٹ کے ساتھ ہوئی۔ ابتدائی سیشن میں معمولی بحالی کی کوشش ضرور ہوئی، لیکن اوپری سطح پر فروخت کے دباؤ نے مارکیٹ کو سنبھلنے نہیں دیا۔ ماہرین کے مطابق نفٹی کے لیے 22,200 سے 22,150 کی سطح اہم سپورٹ بن سکتی ہے، جبکہ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں نفٹی 22,000 یا 21,800 تک بھی جا سکتا ہے۔
نئے مالی سال کی شروعات کیسی رہے گی؟
اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث سرمایہ کار خطرے والے اثاثوں سے نکل کر محفوظ سرمایہ کاری جیسے سونے کی طرف جا رہے ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشے نے بھارتی معیشت کے لیے نئی تشویش پیدا کر دی ہے، جس کا براہ راست اثر شیئر بازار پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ نئے مالی سال کے آغاز میں محتاط رہیں اور مارکیٹ میں استحکام آنے تک بڑی خریداری سے گریز کریں۔





