
لیہ: ملک کے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے پیر کو لداخ کے حساس علاقے لیہ میں واقع ملٹری کیمپ کا دورہ کیا اور وہاں تعینات فوجیوں سے براہ راست بات چیت کی۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی موجودہ چیف جسٹس نے اتنی بلندی پر واقع اس اسٹریٹجک اہمیت کے حامل علاقے کا دورہ کیا۔ سطح سمندر سے تقریباً تین ہزار پانچ سو میٹر کی بلندی پر واقع اس خطے کو دفاعی لحاظ سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، جہاں سخت موسمی حالات کے باوجود فوجی ملک کی سرحدوں کی حفاظت میں مصروف رہتے ہیں۔
چیف جسٹس سوریہ کانت نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے فوجیوں کو بروقت اور آسان انصاف ملنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا دیگر شہریوں کو حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون صرف عدالتوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے ان دور دراز علاقوں تک بھی پہنچنا چاہیے جہاں فوجی دشوار حالات میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجیوں کو سخت موسمی حالات، محدود سہولیات اور طویل تعیناتی کے باعث کئی بار ذاتی اور قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں عدالتوں تک رسائی یا قانونی مدد حاصل کرنا ان کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتی نظام کو مزید مؤثر اور حساس بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دور دراز علاقوں میں تعینات اہلکار بھی انصاف سے محروم نہ رہیں۔
چیف جسٹس سوریہ کانت نے فوجیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کی سلامتی کے لیے ان کی قربانیاں بے مثال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے افراد کی مشکلات کو سمجھے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدلیہ اور فوج کے درمیان بہتر رابطہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس دورے کو عدلیہ اور فوج کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے مستقبل میں ایسے مزید پروگراموں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جن کے ذریعے دور دراز علاقوں میں تعینات اہلکاروں کو قانونی سہولتیں فراہم کی جا سکیں گی۔
لیہ ملٹری کیمپ میں چیف جسٹس کا یہ دورہ ایک تاریخی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس دورے نے واضح پیغام دیا ہے کہ ملک کا عدالتی نظام ہر شہری تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے، چاہے وہ شہری دور افتادہ علاقوں میں تعینات فوجی ہی کیوں نہ ہوں۔ چیف جسٹس نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں انصاف کی رسائی کو مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ ہر شہری کو یکساں قانونی تحفظ حاصل ہو سکے۔







