
ئی دہلی :رمضان المبارک کے 30 روزوں کے بعد عیدالفطر کی خوشیوں کا دن آ گیا ہے۔ آج 21 مارچ کو بھارت میں بھی عیدالفطر مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ مسلم کمیونٹی میں اس موقع پر خوشی، مسرت اور جوش کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔ روزہ دار ایک ماہ کی عبادت کے بعد اس دن کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔عید کے دن صبح سویرے لوگ عیدگاہوں اور مساجد کا رخ کرتے ہیں، جہاں وہ نماز عید ادا کر کے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ نماز کے بعد ایک دوسرے کو گلے لگا کر عید کی مبارکباد دینے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ گھروں میں عزیز و اقارب اور پڑوسیوں کے ساتھ مل کر اس تہوار کو خوشی خوشی منایا جاتا ہے۔ عیدالفطر کو “میٹھی عید” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس دن کھیر، سیوئیاں اور دیگر میٹھے پکوان خصوصی طور پر تیار کیے جاتے ہیں۔
سیاسی لیڈروں نے بھی اس پرمسرت موقع پر عوام کو مبارکباد پیش کی ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اپنے ویڈیو پیغام میں عید منانے والے تمام بھارتیوں کے لیے خوشی، خوشحالی اور صحت مند زندگی کی دعا کی۔
اسی طرح کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے اپنے پیغام میں کہا کہ عید ہمدردی، فیاضی اور اتحاد کا تہوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن ہمیں مشترکہ انسانیت کی طاقت اور کثرت میں وحدت کی خوبصورتی کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ بابرکت موقع امن، ترقی اور خوشحالی
لائے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور خدمت کا جذبہ اپنانے کی ترغیب دے۔
دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں حال ہی میں بری ہونے والے عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے بھی عوام کو عیدالفطرکی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ تہوار سب کی زندگی میں ترقی، بھائی چارہ اور خوشحالی لے کر آئے۔
انہوں نے دعا کی کہ ہر شخص کی زندگی خوشیوں، صحت اور کامیابیوں سے بھرپور ہو۔ملک بھر میں عید کی یہ خوشیاں اس بات کا پیغام دے رہی ہیں کہ محبت، رواداری اور اتحاد ہی ایک مضبوط اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہیں۔







