
نئی دہلی :ایران میں جاری کشیدگی کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 2000 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں 165 بچیاں بھی شامل ہیں۔ تہران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ تہران یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر فواد ایزدی نے ان مشترکہ حملوں کو “غیر قانونی” اور “غیر ضروری جنگ” قرار دیا ہے۔فواد ایزدی کے مطابق ان حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری مارے گئے، جو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی طرح امریکہ کے لیے خطرہ نہیں تھا، اس کے باوجود اس پر حملہ کیا گیا، جو خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا سبب بنا۔
ایرانی پروفیسر کے مطابق ایران نے ابتدائی طور پر صرف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، کیونکہ وہ جائز عسکری اہداف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے تیل کی تنصیبات کو اس وقت تک نشانہ نہیں بنایا جب تک اس کی اپنی تنصیبات پر حملہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق آئل ریفائنری عام طور پر فوجی ہدف نہیں ہوتیں، لیکن جب ایران کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو جوابی کارروائی ناگزیر ہو گئی۔
فواد ایزدی نے خبردار کیا کہ یہ تنازع صرف علاقائی سطح تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی اور سیاسی استحکام پر بھی مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیا بھر کے لیے تشویش کا باعث ہے اور اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔






