
ئی دہلی :خلیجی خطے میں واقع آبنائے ہرمز کے حوالے سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں ایران کی حالیہ کارروائیوں پر دنیا کے 20 ممالک نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ان ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ایران سے فوری طور پر حملے روکنے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیوں سے باز آنے کی اپیل کی ہے۔مشترکہ بیان جاری کرنے والے ممالک میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، کینیڈا، جنوبی کوریا سمیت دیگر یورپی اور عالمی ممالک شامل ہیں۔
یان میں کہا گیا کہ خلیج میں غیر مسلح تجارتی جہازوں، تیل و گیس تنصیبات اور دیگر شہری ڈھانچے پر ایران کے حالیہ حملے قابلِ مذمت ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کرنے کی کوششوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ بارودی سرنگیں بچھانے، ڈرون اور میزائل حملوں اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات کو فوری طور پر بند کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس میں اقوام متحدہ کے تحت بنائے گئے قوانین بھی شامل ہیں۔ بیان کے مطابق عالمی تجارتی راستوں میں رکاوٹ اور توانائی کی سپلائی چین میں خلل بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔مزید کہا گیا کہ ایران کی ان سرگرمیوں کا اثر دنیا بھر کے عوام، خاص طور پر کمزور معیشتوں پر پڑے گا۔ ممالک نے مطالبہ کیا کہ تیل و گیس تنصیبات اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے فوری طور پر بند کیے جائیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ تمام ممالک آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا جس کے تحت اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کو جاری کرنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ عالمی توانائی منڈی کو مستحکم کیا جا سکے۔ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ضرورت پڑنے پر تیل کی پیداوار بڑھانے جیسے اقدامات بھی کریں گے اور اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کے ذریعے متاثرہ ممالک کی مدد جاری رکھیں گے۔ بیان کے اختتام پر تمام ممالک سے اپیل کی گئی کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں اور عالمی امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔





