
ئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (این سی پی یوایل) کے زیراہتمام آج پردھان منتری سنگھرالیہ، تین مورتی مارگ، نئی دہلی میں عظیم الشان تین روزہ عالمی اردو کانفرنس کا افتتاح عمل میں آیا۔ ’کثیرلسانی ہندوستان میں اردوزبان وتہذیب‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی اس کانفرنس کا افتتاح شمع روشن کرکے کیا گیا۔ اس موقع پرسابق مرکزی وزیرِمملکت برائے امورخارجہ اورمعروف صحافی ایم۔ جے اکبر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلراوریوپی کے ایم ایل سی پروفیسرطارق منصور، مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی، حیدرآباد کے وائس چانسلرپروفیسرسید عین الحسن، جشن بہارٹرسٹ کی بانی کامنا پرساد موجود رہے۔
ابق مرکزی وزیرِمملکت برائے امورخارجہ اورمعروف صحافی ایم۔ جے اکبرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردوہماری شناخت ہے، اس کے بغیرہندوستان کمزورہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اردوزبان میں نے اپنی ماں سے سیکھی۔ اردوایک ایسی زبان ہے، جوصرف محبت سے نہیں آتی بلکہ اس کے لیے جنون چاہئے۔ اردوزبان کسی مذہب کی زبان نہیں، لیکن 1947 کا سانحہ اس غلط فہمی کا سبب بنا۔ البتہ ہمیں اس غلط فہمی کا شکارنہیں ہونا چاہئے۔ ہم آج جس مجلس میں بیٹھے ہیں اس میں اردوپریقین کرنے والے اوراسے اپنا بنانے والے افراد موجود ہیں۔ یہ محبت کی زبان ہے اورکتاب میلوں کی کامیابی سے اس کے قارئین کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اردو کے تئیں اپنا ذہن و دماغ صاف رکھنا بھی ضروری ہے۔
ڈاکٹرشمس اقبال نے مہمانوں کا کیا استقبال
کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے قومی اردوکونسل کے ڈائریکٹرڈاکٹرشمس اقبال نے شال پوشی ومومنٹوکے ذریعہ ان تمام مہمانوں کا خیرمقدم کیا اوراستقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں بولی جانے والی بے شمارزبانوں میں اردوزبان کئی اعتبارسے منفرد ہے۔ اردوکا کوئی مخصوص علاقہ نہیں، لیکن اردو ہرعلاقے میں بولی اورسمجھی جاتی ہے۔ 2047 میں جب ملک وکست بھارت کا جشن منا رہا ہوگا، اس وقت ملک کی زبانوں کا کرداربھی قابل دید ہوگا۔ اس لئے اردوزبان کی ترقی کے لیے اسے نئی ٹیکنالوجی سے جوڑنا اور نئے تقاضوں کے مطابق بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے حوالے سے مختلف موضوعات ومسائل کا بھی ذکرکیا اورملک وبیرون ملک سے تشریف لانے والے مہمانوں کا استقبال کیا۔ انہوں نے اخیرمیں وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان اورحکومت ہند کا بھی شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پرقومی اردو کونسل کی مطبوعہ کتاب “وکست بھارت کا وژن اوراردوزبان” کا اجرا بھی کیا گیا۔ یہ کتاب گزشتہ عالمی اردوکانفرنس اورپٹنہ سمینارمیں پڑھے گئے مقالات کا مجموعہ ہے، جسے ڈاکٹرمحمد شمس اقبال نے ترتیب دیا ہے۔
پروفیسرطارق منصورنے اردو رسم الخط پردیا زور
مہمان ذی وقارکے طورپرتشریف لائے یوپی کے ایم ایل سی (رکن لیجسلیٹو کونسل) اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرپروفیسرطارق منصورنے عالمی اردوکانفرنس کے انعقاد کوخوش آئند قراردیتے ہوئے ڈاکٹرشمس اقبال کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان زبانوں کے اعتبارسے بیحد ثروت مند ہے۔ انہوں نے ملک کے مختلف شہروں میں قومی اردوکونسل کے کامیاب کتاب میلوں کا ذکرکرتے ہوئے اسے اردوزبان کی مقبولیت قراردیا اوراعداد وشمارسے ثابت کیا کہ اس کے بولنے والے ملک کے ہرخطے میں پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردوزبان کی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے لیے ذاتی طورپرکوششیں کرنی بھی ضروری ہیں۔ اردو زبان کے رسم الخط کوباقی رکھنا اوراسے سیکھنا اس کی بقا کے لیے بے حد اہم ہیں۔ اردوکا دیگر قدیم ہندوستانی زبانوں سے بھی رشتہ ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں مادری زبان کی اہمیت پرزوردیا گیا ہے اور اردو آبادی کواس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ اردوخالص ہندوستان کی زبان ہے اوراس کا تعلق کسی مخصوص طبقے سے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اردوکانفرنس اردوکی کامیابی اورترویج کا سبب بنے گی۔
اردوزبان نے ہرکسی کا احترام کیا: پروفیسرسید عین الحسن
کانفرنس کے دوسرے مہمان اعزازی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلرحیدرآبادپروفیسرسید عین الحسن نے اردوزبان کی کشادہ قلبی اوردوست نوازی پراظہارخیال کیا اوردیگرزبانوں کے ساتھ اردوکے خوبصورت میل جول پرروشنی ڈالی۔ انہوں نے اردوزبان کی شیرینی کے ساتھ اس میں پائے جانے والے طنز، اشارہ اورکنایہ کی خوبیوں کا بھی ذکرکیا۔ انہوں نے کہا کہ اردونے ہرکسی کا احترام کیا۔ فلمی نغموں نے خوش کلامی کے خوبصورت نمونے پیش کئے۔ ایسی صورت میں اس کی مقبولیت سے کسے انکارہوسکتا ہے۔ اردومیں ایک نمک ہے، جواسے محسوسات کی زبان بنا دیتا ہے۔ اردونے لوگوں کوحساسیت کا مزاج عطا کیا۔
جشن بہارٹرسٹ کی بانی اورکانفرنس کی مہمان اعزازی کامنا پرساد نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کثیرلسانی ہندوستان کے منظرنامے پرروشنی ڈالی اورملک میں زبان کی صورت حال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اردوکا وجود ہندوستان کی ہزاروں سال کی تہذیبوں کے میل جول سے عمل میں آیا ہے اورمختلف ہندوستانی زبانوں میں اس کے اثرات نظرآتے ہیں۔ عربی، فارسی، سنسکرت اوردیگرزبانوں کی آمیزش کا سلسلہ بہت قدیم ہے اوراس طرح یہ زبان شیریں ترہوتی گئی۔ انمہوں نے کہا کہ اردوکہیں عشق کے اظہارکی زبان بنی توکہیں ملک کی آزادی کے لیے انقلاب کی آوازبنی۔ وقت گزرنے کے ساتھ لسانی آمیزش کا سلسلہ جاری ہے اوریہ وقت کی ضرورت ہے۔ اردوہندوستانی زبان ہونے کے ساتھ اس کی تہذیب و ثقافت کی نمائندہ ہے- کشادہ دلی، اعلی ظرفی اورملائمیت اس زبان کی بڑی خوبیاں ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹرشمس اقبال کواس اہم زبان سے متعلق جشن بپا کرنے کے لیے مبارکباد پیش کی اورشکریہ بھی ادا کیا۔
اس افتتاحی سیشن کی نظامت ڈاکٹرحفیظ الرحمن (کنوینر، خسرو فاؤنڈیشن، نئی دہلی) نے اورشکریے کی رسم این سی پی یو ایل کی ااسسٹنٹ ڈائریکٹراکیڈمک، ڈاکٹرشمع کوثریزدانی نے انجام دی۔ تقریب کا اختتام راشٹرگان پر ہوا۔ افتتاحی سیشن کے بعد ایم اے انصاری آڈیٹوریم (جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) میں “ہیومرباز” کے عنوان سے ایک مزاحیہ ثقافتی تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں معروف اداکاراورکامیڈین رحمان خان نے اپنے رفقا کے ساتھ فن کاری کا مظاہرہ کیا۔ ڈاکٹرجاوید حسن نے اس پروگرام کا تعارف پیش کیا۔ اس موقع پرملک اوربیرون ملک کے مہمانوں کے علاوہ کونسل کے معززاراکین، افسران اورسامعین کی بڑی تعداد موجود رہی۔