
نئی دہلی:ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ وسیع مذاکرات اور گفت و شنید کے بعد دونوں ممالک نے عبوری تجارتی معاہدے کے لیے تاریخی فریم ورک کو حتمی شکل دی ہے۔ یہ پی ایم مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے ممکن ہوا۔ مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل نے اسے ہندوستان کے لیے 30 ٹریلین ڈالر کا موقع قرار دیا۔ بھارت اور امریکہ نے جمعہ 6 فروری 2026 کو ایک عبوری تجارتی معاہدے کا فریم ورک جاری کیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑے اور پائیدار دوطرفہ تجارتی معاہدے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ٹیرف کے معاملے پر جاری کشیدگی کے پس منظر میں اس پیش رفت کو بھارت اور امریکہ کے معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے والا اقدام مانا جا رہا ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور امریکہ اس فریم ورک کو جلد نافذ کریں گے اور عبوری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ اس کا مقصد ایسا متوازن تجارتی معاہدہ تیار کرنا ہے جس سے دونوں ممالک کو یکساں فائدہ حاصل ہو۔ اسے بھارت-امریکہ شراکت داری کی سمت میں ایک بڑی کامیابی بتایا گیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس فریم ورک کے اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر عائد 25 فیصد اضافی ٹیرف ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کے اس فیصلے کو نافذ کیا۔ یہ اضافی ٹیرف بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری کے تناظر میں لگایا گیا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے تجارتی رکاوٹوں میں کمی کرے گا اور امریکہ سے تیل سمیت دیگر مصنوعات کی خریداری میں اضافہ کرے گا، جبکہ بھارت نے اپنی توانائی سلامتی کے معاملے پر متوازن مؤقف اختیار کیا ہے۔
پیوش گوئل نے اس عبوری فریم ورک قرار دیا
مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل نے اس عبوری فریم ورک کو وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس معاہدے سے بھارتی برآمد کنندگان، خصوصاً ایم ایس ایم ای، کسانوں اور ماہی گیروں کے لیے امریکہ جیسے 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت والے وسیع بازار کے دروازے کھلیں گے۔ اس سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ خواتین اور نوجوانوں کے لیے لاکھوں نئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔پیوش گوئل نے بتایا کہ اس فریم ورک کے تحت امریکہ بھارتی مصنوعات پر عائد ریسیپروکل ٹیرف کو کم کر کے 18 فیصد تک لے آئے گا۔ اس سے ٹیکسٹائل اور ملبوسات، لیدر اور فٹ ویئر، پلاسٹک اور ربڑ مصنوعات، آرگینک کیمیکلز، ہوم ڈیکور، دستکاری اور منتخب مشینری جیسے شعبوں کو امریکی مارکیٹ میں بڑا فائدہ پہنچے گا۔
بھارتی مصنوعات پر ٹیرف مکمل طور پر ختم کرنے پر بھی اتفاق
اس عبوری معاہدے کے تحت امریکہ نے کئی بھارتی مصنوعات پر ٹیرف مکمل طور پر ختم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جن میں جینرک ادویات، جواہرات و زیورات اور ہوابازی کے پرزے شامل ہیں۔ اس سے بھارت کی برآمدی مسابقت مضبوط ہوگی اور میک اِن انڈیا مہم کو براہِ راست فروغ ملے گا۔مرکزی وزیرِ تجارت نے واضح کیا کہ اس معاہدے میں بھارتی کسانوں اور دیہی روزگار کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔ مکئی، گندم، چاول، سویابین، پولٹری، دودھ، پنیر، ایتھنول، تمباکو، کچھ سبزیاں اور گوشت جیسے حساس زرعی اور ڈیری مصنوعات کو مکمل تحفظ دیا گیا ہے۔