
ئی دہلی: بھارت کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ موجودہ بھارتی سفیر برائے چاڈ، ڈاکٹر حفظ الرحمٰن کو لیبیا میں بھارت کا نیا سفیر مقرر کیا گیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر حفظ الرحمٰن جلد اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ان کی تقرری کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کے تسلسل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جو جغرافیائی فاصلے کے باوجود مضبوط اور متوازن رہے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق ہندوستان اور لیبیا کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ رواں سال فروری میں نئی دہلی میں پہلی انڈیا۔عرب یونیورسٹیز صدور کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس کا افتتاح وزیر مملکت برائے امورِ خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے کیا۔ عرب ممالک کی جانب سے اس کانفرنس کی قیادت لیبیا کے وزیرِ تعلیم عمران محمد عبدالنبي القيب نے کی، جنہوں نے خصوصی خطاب بھی پیش کیا۔ اس کانفرنس نے دونوں ممالک کے مابین تعلیمی و علمی تعاون کو نئی بنیاد فراہم کی۔
وزارت کے ریکارڈ کے مطابق بھارت نے 1969 میں طرابلس میں اپنا سفارتی مشن قائم کیا تھا جبکہ 1984 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کا دورۂ لیبیا ہندوستانی سفارت کاری میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ بھارت نے بین الاقوامی فورمز پر لیبیا کی بھرپور حمایت کی ہے اور 2003 میں اقوام متحدہ کی طرف سے پابندیاں اٹھانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔ بھارت کی جانب سے شروع کیے گئے پان۔افریقہ ای گورننس منصوبے کے تحت لیبیا میں ٹیلی میڈیسن، ٹیلی ایجوکیشن اور ای گورننس کے لیے ایک مرکز بھی قائم کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں سیکیورٹی حالات بہتر ہونے پر ای۔وی بی اے بی منصوبے کے تحت ازسرِنو فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔
بھارت اور لیبیا کے درمیان معاشی تعلقات ہمیشہ سے مضبوط رہے ہیں۔ دونوں ملکوں نے 1978 میں صنعتی، اقتصادی اور سائنسی تعاون کے پروٹوکول پر دستخط کیے، جس کے بعد سے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے تحت باقاعدہ مشاورت کا سلسلہ شروع ہوا۔ بھارتی سرکاری و نجی کمپنیوں نے گزشتہ تین دہائیوں میں لیبیا میں کئی بڑے منصوبوں پر کام کیا ہے جن میں اسپتالوں، رہائشی منصوبوں، اسکولوں، سڑکوں، پاور پلانٹس، ایئرپورٹس، ڈیمز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی تعمیر شامل ہے۔
بھارتی کمپنیوں جیسے بی ایچ ای ایل، این بی سی سی، او این جی سی ویدیش، آئی او سی، آئل انڈیا، پنج لائیڈ، یونٹیک، کی ای سی، شاپورجی پلونجی، سن فارما، ایس ایس بی اور دیگر اداروں نے لیبیا میں متعدد منصوبے مکمل کیے ہیں، جنہوں نے دو طرفہ معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر حفظ الرحمٰن کی تقرری کو نئی دہلی اور طرابلس کے درمیان تعلقات کے نئے مرحلے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے توقع ہے کہ باہمی تعاون مزید فروغ پائے گا۔







