
نئی دہلی: معروف مذہبی رہنما آچاریہ پرمود کرشنم ایک حادثے میں زخمی ہو گئے، جب ان کے رہائش گاہ پر اچانک پاؤں پھسلنے کے باعث وہ گر پڑے۔ اس حادثے میں ان کے سر پر گہری چوٹ آئی اور پیشانی پر دو انچ سے زیادہ لمبا زخم ہوگیا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ذرائع کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب آچاریہ پرمود کرشنم اپنے گھر میں معمول کے کام کے دوران چل رہے تھے کہ اچانک توازن بگڑنے سے گر گئے۔ گرنے کے نتیجے میں ان کے سر پر شدید ضرب لگی، جس سے خون بہنے لگا اور حالت تشویشناک محسوس ہونے لگی۔فوری طبی امداد کے لیے انہیں غازی آباد کے معروف اسپتال یَشودا میڈی سٹی لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا معائنہ کیا۔ طبی جانچ کے بعد ڈاکٹروں نے سرجری کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ زخم کو بہتر طریقے سے ٹھیک کیا جا سکے اور کسی بھی اندرونی چوٹ کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق سرجری کامیاب رہی اور آچاریہ کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اگرچہ چوٹ گہری تھی، لیکن بروقت علاج کی وجہ سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ فی الحال انہیں نگرانی میں رکھا گیا ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل ان کی صحت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پیشانی پر لگنے والا زخم کافی بڑا تھا، جس کے باعث فوری آپریشن ضروری تھا۔ سرجری کے بعد اب ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے اور آئندہ چند دنوں میں مکمل صحت یابی کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔حادثے کی خبر سامنے آنے کے بعد ان کے چاہنے والوں اور عقیدت مندوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ مختلف سماجی و مذہبی شخصیات نے ان کی جلد صحت یابی کے لیے پرارتھناکی ہے۔
واضح رہے کہ آچاریہ پرمود کرشنم ملک کے معروف مذہبی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور سماجی و مذہبی معاملات پر کھل کر اپنی رائے رکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی صحت سے متعلق خبر نے ان کے حامیوں کو وقتی طور پر پریشان ضرور کیا، تاہم ڈاکٹروں کی جانب سے مثبت پیش رفت کی اطلاع کے بعد اب اطمینان کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق اگر صحت یابی کا عمل اسی طرح جاری رہا تو انہیں جلد ہی ڈسچارج بھی کیا جا سکتا ہے، تاہم مکمل آرام اور احتیاط کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ وہ جلد از جلد اپنی معمول کی سرگرمیوں میں واپس آ سکیں۔





