
نئی دہلی :بھارتی ریلوے اور صاف توانائی کے شعبے میں جمعہ کو ایک تاریخی سنگ میل قائم ہوا، جب وزیر اعظم نریندر مودی نے ہریانہ کے جِند ریلوے اسٹیشن سے ملک کی پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی مسافر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ یہ جدید ٹرین نہ صرف بھارت کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین ہے، بلکہ اسے دنیا کی طویل ترین اور طاقتور ہائیڈروجن مسافر ٹرینوں میں بھی شمار کیا جا رہا ہے، جو ماحول دوست ٹیکنالوجی اور خود کفیل بھارت کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ جِند ریلوے اسٹیشن پر منعقدہ تقریب میں ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی، مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو، عوامی نمائندے، ریلوے حکام اور بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے۔ جیسے ہی وزیر اعظم نے ٹرین کو سونی پت کے لیے روانہ کیا، پورا ریلوے اسٹیشن ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے عوام، ریلوے کے شائقین اور وہاں موجود طلبہ کا ہاتھ ہلا کر خیرمقدم کیا، جب کہ دوسرے پلیٹ فارم پر بھی ہزاروں افراد اس تاریخی لمحے کے گواہ بنے۔ہائیڈروجن ٹرین کی پہلے سفر کا اعزاز مقامی اسکولوں کے طلبہ کو حاصل ہوا۔ ہاتھوں میں ترنگا تھامے بچے اس جدید اور ماحول دوست ٹرین میں سفر کو لے کر بے حد پرجوش دکھائی دیے۔ اس اقدام کو نوجوان نسل میں گرین ٹرانسپورٹ اور ماحول کے تحفظ کے بارے میں شعور بیدار کرنے کی سمت ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرین کو روانہ کرنے کے بعد وزیر اعظم مودی جِند کے ایکلویہ اسٹیڈیم پہنچے، جہاں ریاستی سطح کے ایک بڑے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ریموٹ کے ذریعے تقریباً 14,700 کروڑ روپے مالیت کے بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور کئی منصوبے قوم کے نام وقف کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے روایتی ہریانہوی صافہ پہنا کر وزیر اعظم کا استقبال کیا اور انہیں یادگاری تحفہ بھی پیش کیا۔وزیر اعظم نے اس موقع پر تقریباً 9,680 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے 157.92 کلومیٹر طویل، چار لین پر مشتمل دہلی-امرتسر-کٹرا ایکسپریس وے (پیکیج 1 تا 5) کو بھی قوم کے نام وقف کیا۔ اس جدید ایکسپریس وے کے آغاز سے دہلی سے کٹرا تک کا سفر تقریباً 14 گھنٹے سے کم ہو کر صرف 6 گھنٹے رہ جائے گا، جبکہ دہلی سے امرتسر کا سفری وقت 8 گھنٹے سے گھٹ کر تقریباً 4 گھنٹے ہو جائے گا۔
اس کے علاوہ وزیر اعظم نے قومی شاہراہ نمبر 7 (NH-7) اور قومی شاہراہ نمبر 344 (NH-344) پر تعمیر شدہ 33.81 کلومیٹر طویل چار لین ہائی وے کا افتتاح بھی کیا، جس سے ہریانہ اور ہماچل پردیش کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی امید ہے۔ اسی طرح قومی شاہراہ 352A پر واقع 40.60 کلومیٹر طویل گرین فیلڈ ہائی وے کا بھی افتتاح کیا گیا اور علاقے میں سڑکوں کے نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئی شاہراہی اسکیموں کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔حکومت کے مطابق ہائیڈروجن ٹرین اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے یہ منصوبے ملک میں جدید، تیز رفتار اور ماحول دوست نقل و حمل کے نظام کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ہریانہ سمیت شمالی بھارت کی اقتصادی اور صنعتی ترقی کو بھی نئی رفتار فراہم کریں گے۔







