
ہران: ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب 28 فروری کو آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد سے ایرانی اعلیٰ قیادت کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی دفاعی افواج نے جمعرات کو اعلان کیا کہ انہوں نے ایران کے وزیرِ انٹیلیجنس اسماعیل خطیب کو تہران میں ایک ہدفی کارروائی میں ہلاک کر دیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اسماعیل خطیب نے مہسا امینی احتجاج کے دوران ایرانی شہریوں کے خلاف کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
دیگر اعلیٰ شخصیات بھی مارے گئے
اس ہفتے کے آغاز میں ایرانی سکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔ 67 سالہ علی لاریجانی کو ایرانی قیادت کا ایک اہم ترین ستون سمجھا جاتا تھا اور ان کی موت کو اس تنازع کے دوران سب سے بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ساتھیوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’بزدلانہ قتل‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں کی موت نے قوم کو غمزدہ کر دیا ہے، تاہم ان کا مشن پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ جاری رہے گا۔
ایران کا موقف: نظام مضبوط ہے
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ملک کا سیاسی نظام ایک مضبوط ڈھانچہ رکھتا ہے اور کسی ایک شخصیت کی موجودگی یا عدم موجودگی سے اس پر کوئی بنیادی اثر نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے سیاسی، معاشی اور سماجی ادارے مستحکم ہیں اور قیادت کو کوئی مہلک نقصان نہیں پہنچے گا۔ ماہرین کے مطابق مسلسل حملوں اور اعلیٰ قیادت کے نقصانات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ تنازع وسیع ہو کر عالمی سطح پر سکیورٹی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔






