
نئی دہلی: بھارت میں توانائی ذخیرہ کرنے کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم منصوبوں کی مجموعی صلاحیت بڑھ کر 92 گیگاواٹ گھنٹہ کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ انڈیا انرجی اسٹوریج الائنس کی رپورٹ کے مطابق اس وقت نصب شدہ صلاحیت ایک گیگاواٹ گھنٹہ سے بھی کم ہے، لیکن 2033 تک یہ بڑھ کر 346 گیگاواٹ گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومتی پالیسیوں کی حمایت جاری رہی تو یہ صلاحیت 544 گیگاواٹ گھنٹہ تک بھی جا سکتی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران اس شعبے میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ اس عرصے میں 69 نئے بیٹری اسٹوریج ٹینڈرز جاری کیے گئے جن کی مجموعی صلاحیت 102 گیگاواٹ گھنٹہ ہے، جو 2024 کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ہے۔
پمپڈ ہائیڈرو اسٹوریج میں بھی اضافہ
رپورٹ کے مطابق پمپڈ ہائیڈرو توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبے میں بھی بڑا اضافہ متوقع ہے۔ اس کی صلاحیت 2025 میں 7 گیگاواٹ سے بڑھ کر 2033 تک 107 گیگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ایس سی سکسینہ، جو گرڈ انڈیا کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ہیں، نے کہا کہ بجلی کی طلب میں اتار چڑھاؤ کو سنبھالنے کے لیے بڑے پیمانے پر توانائی ذخیرہ کرنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاگت میں کمی اور حکومتی پالیسیوں کے باعث بیٹری اور پمپڈ ہائیڈرو اسٹوریج کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
توانائی اہداف کے حصول میں مدد
دیبمالیہ سین، صدر انڈیا انرجی اسٹوریج الائنس، نے کہا کہ یہ شعبہ بھارت کو 2030 تک 500 گیگاواٹ نان فوسل فیول صلاحیت کے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد دے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس شعبے کی ترقی میں مختلف حکومتی اقدامات جیسے انرجی اسٹوریج ذمہ داری، وائبلیٹی گیپ فنڈنگ اور ٹرانسمیشن چارجز میں رعایت نے اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ 2026 میں تقریباً 5 گیگاواٹ گھنٹہ نئی صلاحیت کے شامل ہونے کی توقع ہے، جس سے یہ شعبہ تیزی سے ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہوگا اور بھارت عالمی توانائی ذخیرہ کرنے کی منڈی میں ایک مضبوط کھلاڑی بن کر ابھرے گا۔






