
کویت سٹی: کویت میں سرکاری تیل کمپنی کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ مینا الاحمدی آئل ریفائنری پر ڈرون حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں مختلف یونٹس میں آگ لگ گئی۔ کمپنی کے مطابق حملے کے بعد ریفائنری کے کچھ حصوں کو احتیاطی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ ہنگامی ٹیمیں صورتحال پر قابو پانے کے لیے سرگرم ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں خطے کی کئی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ بدھ کی رات اسرائیل نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملہ کیا، جس کے جواب میں ایران نے قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی کو نشانہ بنایا، جس سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ بعد ازاں جمعرات کو ایران کے ایک بیلسٹک میزائل نے شمالی اسرائیل کے حیفہ آئل ریفائنری کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا۔ ادھر سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مزید چار ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ایران کا سخت موقف
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے اپنی طاقت کا صرف ایک محدود حصہ استعمال کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو ایران ’’بالکل بھی ضبط‘‘ کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور سخت ردعمل دے گا۔ ماہرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں اور میزائل حملے اس بات کا اشارہ ہیں کہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی منڈی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔





