
اسلام آباد: پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمعہ کی نماز کے دوران ایک بڑا خودکش حملہ پیش آیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق شہزاد ٹاؤن کے علاقے میں واقع ترلائی امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں کئی افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حملے کے محرکات اور حملہ آور کی شناخت کا پتہ لگایا جا سکے۔
دھماکے کے بعد اسلام آباد کے پولی کلینک اسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اور سی ڈی اے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی ہدایت پر فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کی گئی۔
اسپتالوں میں مرکزی ایمرجنسی، آرتھوپیڈک، برن سینٹر اور نیورولوجی شعبوں کو فعال کر دیا گیا ہے۔ زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے اور مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔






