
نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کو بی جے پی اور آر ایس ایس پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آج بھی دلتوں کے ساتھ قدم قدم پر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ راہل گاندھی نے کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے کی اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں ہوئی سبھا کے بعد مبینہ طور پر کیے گئے شدھی کرن کے معاملے کو بھی اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ اس واقعے کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف ایس سی اور ایس ٹی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور ہزاروں ذاتوں والا ملک ہے، لیکن آزادی کے 80 سال بعد بھی دلتوں کے خلاف مظالم جاری ہیں۔ ان کے مطابق دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک صرف کسی ایک جگہ نہیں بلکہ معاشرے کے مختلف حصوں میں نظر آتا ہے۔
آزادی کے80سال بعد بھی دلتوں پر مظالم
راہل گاندھی نے کہا کہ آج بھی بعض جگہوں پر دلت کے گھڑے کو چھو لینے پر اس کی جان لے لی جاتی ہے، مونچھ رکھنے پر قتل کر دیا جاتا ہے اور مندر میں داخل ہوکر مورتی چھونے پر بھی تشدد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھوڑی پر بارات نکالنے جیسے معاملات میں بھی دلتوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر معاشرے کے ایک طبقے کے ساتھ اس طرح کا سلوک جاری رہے تو کیا ملک کو متحد رکھا جا سکتا ہے؟
کھڑگے کی سبھا کے بعد شدھی کرن کا معاملہ
راہل گاندھی نے ہلدوانی میں ملیکارجن کھڑگے کی سبھا کے بعد مبینہ شدھی کرن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کھرگے نے جب اس معاملے کو راجیہ سبھا میں اٹھایا تو بی جے پی کے سینئر لیڈر جے پی نڈا نے اسے افسوسناک قرار دیا تھا اور معاملے کی جانچ کرانے کی بات کہی تھی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ایک طرف بی جے پی قیادت اس طرح کے واقعے کو قبول نہ کرنے کی بات کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف پارٹی کے لیڈر مہندر بھٹ نے مبینہ شدھی کرن کو درست قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی ان کی تکلیف ہے اور ایسے واقعات پر پورے ملک کو توجہ دینی چاہیے۔
دلتوں کے ساتھ ہر جگہ امتیازی سلوک کا الزام
راہل گاندھی نے روزمرہ زندگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بعض چائے کی دکانوں پر بھی دلتوں کے ساتھ الگ سلوک کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق بعض مقامات پر چائے کے لیے دو طرح کے کپ رکھے جاتے ہیں، ایک شیشے کا کپ اور دوسرا کاغذ یا پلاسٹک کا کپ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پلاسٹک یا کاغذ کا کپ دلتوں کے لیے مخصوص رکھا جاتا ہے، جبکہ شیشے کا کپ دوسرے لوگوں کو دیا جاتا ہے۔
کھڑگے نے راجیہ سبھا میں اٹھایا تھا معاملہ
کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے مانسون اجلاس کے آخری دن راجیہ سبھا میں ہلدوانی کے واقعے کا معاملہ اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے رام لیلا میدان میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کیا تھا، جہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنی تقریر میں کسی برادری یا مذہب کا نام نہیں لیا بلکہ حکومت سے متعلق مسائل اٹھائے تھے۔ کھرگے نے الزام لگایا تھا کہ ان کی تقریر کے بعد بی جے پی سے وابستہ لوگوں نے اس مقام کو ’شدھ‘ کرنے کے لیے ہون کیا۔ انہوں نے سوال کیا تھا کہ کیا جمہوریت میں اس طرح کا عمل قابل قبول ہے اور کیا اسی طرح آئین کی حفاظت کی جائے گی؟ اس پر جے پی نڈا نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بی جے پی ایسی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی اور معاملے کی جانچ کرائی جائے گی۔ اب راہل گاندھی نے اسی معاملے میں ایس سی اور ایس ٹی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






