
نئی دہلی: بھارت منڈپم میں منعقدہ ’ایشین وینچر فلانتھروپی نیٹ ورک‘(AVPN) گلوبل کانفرنس 2026 کے استقبالیہ عشائیے کی میزبانی کرتے ہوئے اڈانی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر پریتی اڈانی نے عالمی سطح پر فلاحی کاموں کی سمت تبدیل کرنے کی اپیل کی۔ ہندوستان میں پہلی بار منعقد ہونے والی اس 13ویں عالمی کانفرنس میں 43 سے زائد ممالک کے تقریباً 2,000 عالمی مخیر شخصیات، پالیسی ساز اور سماجی کاروباری افراد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا کہ فلاح و بہبود کا مقصد صرف لوگوں کی زندگیوں کو براہ راست تبدیل کرنا نہیں، بلکہ انہیں ایسی طاقت اور صلاحیت فراہم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ اپنا مستقبل خود بدل سکیں۔
ڈاکٹر پریتی اڈانی نے عالمی پلیٹ فارم پر ہندوستان کی بدلتی ہوئی شبیہ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں سے دنیا ہندوستان کو صرف اس کی ’’ضرورتوں کے حجم‘‘ کے اعتبار سے دیکھتی رہی ہے، لیکن اب یہ نظریہ پوری طرح پرانا ہو چکا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا، ’’آج کے ہندوستان کو ہماری امنگوں کے پیمانے، تبدیلی کی رفتار اور ہمارے لوگوں کی توانائی کے ذریعے دیکھا اور سمجھا جانا چاہیے۔ آج کا ہندوستان ’وکست بھارت 2047‘ کے وژن سے متحد ہے، جو ہماری آزادی کی صد سالہ سالگرہ تک ایک ترقی یافتہ ملک بننے کا ہمارا اجتماعی عزم ہے۔ ہندوستان میں ٹیکنالوجی اب انسانی وقار کو فروغ دے رہی ہے اور ہم بڑے پیمانے پر مسائل کے حل تیار کر رہے ہیں۔ ہماری سالانہ سماجی شعبے کی فنڈنگ 310 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور یہ 13 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ یہ خود انحصار ترقی کا ایسا ماڈل ہے، جہاں ہندوستان کی ترقی کی کہانی ہندوستانیوں کے ذریعے اور ہندوستانیوں کے لیے لکھی جا رہی ہے۔‘‘
’بقا کے لیے فنڈنگ‘ سے ’صلاحیت سازی کے لیے سرمایہ‘ کی طرف
ڈاکٹر اڈانی نے عالمی سطح پر فنڈز کی تقسیم کی حکمت عملی پر زور دیتے ہوئے ’کیپٹل فار کیپیسٹی‘ یعنی صلاحیت سازی کے لیے سرمایہ کا تصور پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج جب سماجی سرمایہ اور ملکی عطیات تاریخی بلندی پر ہیں، تو اصل چیلنج فنڈز کی کمی نہیں بلکہ ان کی درست اور حکمت عملی کے ساتھ تقسیم ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں مخیر شخصیات کے اس گروپ سے فنڈنگ کے مقصد اور اس کے اثرات پر غور کرنے کی اپیل کرتی ہوں۔ بنیادی ضروریات کے لیے دی جانے والی فنڈنگ (Survival Funding) اہم ہے، لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ ہم پائیدار اثرات کی جانب بڑھیں۔ رویوں میں تبدیلی، ادارہ سازی، ہنرمندی کی ترقی، اختراع، ماحولیاتی اقدامات اور سماجی شمولیت کو مضبوط بنانے کے لیے دی جانے والی فنڈنگ ہی فلاحی کاموں کے اگلے دور کی سمت متعین کرے گی۔ ترقی یافتہ ہندوستان صرف بڑے بجٹ سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں سے بنے گا۔ یہ صرف زیادہ منصوبے شروع کرنے سے نہیں بلکہ ان افراد اور نظاموں کو فنڈ فراہم کرنے سے بنے گا جو ان منصوبوں کو پائیدار اور وسیع پیمانے پر مؤثر بناتے ہیں۔‘‘
جدید دور کا تضاد
عالمی چیلنجز پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر پریتی اڈانی نے موجودہ دور کے تضاد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف انسانی ترقی کے اشاریے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تو دوسری جانب ہم ماحولیاتی نظام کو غیر مستحکم ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہم مصنوعی ذہانت کے ایسے دور کا مشاہدہ کر رہے ہیں جس میں ترقی کی رفتار بے مثال ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کئی دہائیوں کی پیش رفت کو چند برسوں میں سمیٹ سکتی ہے، لیکن اسی آسانی سے وسائل تک رسائی رکھنے والوں اور محروم افراد کے درمیان خلیج کو بھی مزید گہرا کر سکتی ہے۔ ہم سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے حد سے زیادہ استعمال کے باعث بچوں اور بالغوں میں برن آؤٹ، ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کی خطرناک صورتیں دیکھ رہے ہیں۔ یہ ہمارے دور کا سب سے بڑا تضاد ہے۔ بے مثال صلاحیت، بے مثال سرمایہ اور پھر بھی اس کے استعمال میں بے مثال انتشار۔‘‘
اڈانی فاؤنڈیشن کے 30 سال مکمل
یہ تقریب ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب اڈانی فاؤنڈیشن زمینی سطح پر ترقیاتی کاموں کے 30 سال (1996 سے 2026) مکمل کر رہا ہے۔ فاؤنڈیشن کی سرگرمیاں 22 ریاستوں کے 7,200 سے زائد گاؤں تک پھیلی ہوئی ہیں اور اس نے 1.3 کروڑ (13 ملین) سے زیادہ لوگوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالا ہے۔ اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی کی قیادت میں اڈانی خاندان نے صحت خدمات، ہنرمندی کی ترقی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے 60,000 کروڑ روپے (تقریباً 7 ارب ڈالر) مختص کیے ہیں۔ اس کے تحت ممبئی اور احمد آباد میں 1,000 بستروں پر مشتمل ’اڈانی ہیلتھ سٹیز‘ اور بہار کے پیرپینتی میں 200 بستروں والا اسپتال قائم کیا جا رہا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82




