
ئی دہلی: پڑوسی ملک نیپال پہلے ہی شدید سیلاب اور قدرتی آفت سے دوچار ہے، ایسے میں تبت-نیپال سرحد پر ایک اور گلیشیئر جھیل پھٹنے کی خبر نے تشویش بڑھا دی ہے۔ نیپال میں پیدا ہونے والی اس صورتحال کے پیش نظر ہندوستانی ریاست بہار میں بھی انتظامیہ کو مکمل طور پر الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ممکنہ سیلاب کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ریاستی حکومت کی ہدایت پر گنڈک اور کوسی بیراج سمیت شمالی بہار کے اہم پشتوں کی 24 گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے۔ نیپال سے آنے والے اضافی پانی اور ملبے کو دیکھتے ہوئے محکمہ آبی وسائل نے ہیڈکوارٹر کی سطح سے افسران اور انجینئرز کی خصوصی ٹیمیں تعینات کی ہیں۔ نیپال سے آنے والے سیلابی پانی کو بغیر رکاوٹ نکالنے کے لیے گنڈک بیراج کے تمام 36 گیٹ کھول دیے گئے ہیں۔ سپرنٹنڈنگ انجینئر کی قیادت میں ایک تکنیکی ٹیم بیراج پر مسلسل موجود ہے، جبکہ سارن پشتے سمیت دیگر حساس مقامات پر گشت بڑھا دیا گیا ہے۔
کوسی بیراج کے17گیٹ کھولے گئے
ویرپور میں کوسی بیراج کے 56 میں سے 17 گیٹ کھول دیے گئے ہیں۔ جمعہ کی شام کوسی بیراج سے تقریباً 1,44,775 کیوسک پانی کا اخراج ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم محکمہ آبی وسائل کے مطابق مشرقی اور مغربی دونوں پشتے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور فی الحال صورتحال معمول کے مطابق ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیراجوں سے پانی کے اخراج اور دریاؤں کی سطح پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، تاکہ کسی بھی اچانک تبدیلی کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
24گھنٹے کام کر رہی انجینئرز کی ٹیم
محکمہ آبی وسائل کے ہیڈکوارٹر سے ہر آدھے گھنٹے میں دریاؤں کے پانی کے اخراج اور سطح کی تازہ معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ متعلقہ اضلاع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس (DM) اور پولیس سپرنٹنڈنٹس (SP) کو بھی اپنے علاقوں میں پشتوں کی صورتحال کی خود نگرانی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ محکمہ کے حکام کے مطابق نیپال کی بھوٹے کوشی ندی سے تقریباً 10 ہزار کیوسک اضافی پانی آنے کا امکان ہے، تاہم اس سے کوسی کے مرکزی بہاؤ پر کسی بڑے منفی اثر کی توقع نہیں ہے۔
نائب وزیراعلیٰ نے کہا، گھبرانے کی ضرورت نہیں
بہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار چودھری نے کہا کہ نیپال میں گلیشیئر جھیل پھٹنے سے بڑی تباہی ہوئی ہے، لیکن والمیکی نگر بیراج اس مقام سے تقریباً 250 سے 300 کلومیٹر دور ہے۔ ان کے مطابق اس فاصلے کی وجہ سے نیپال سے بہہ کر آنے والے پانی کی رفتار اور اثر بہار کے میدانی علاقوں تک پہنچتے پہنچتے کافی کم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گنڈک ندی میں پانی کی سطح پہلے ہی معمول سے نیچے تھی، اس لیے اضافی پانی آنے کے باوجود بہار کے میدانی علاقوں میں فی الحال کوئی انتہائی سنگین صورتحال پیدا نہیں ہوئی ہے۔
ان5اضلاع پرسیلاب کا خطرہ
آبی ماہرین کے مطابق نیپال کی پہاڑیوں سے نکلنے والی گنڈک، تریشولی، بھوٹے کوشی، سکرہنا اور ناراینی سمیت دو درجن سے زیادہ ندیاں شمالی بہار کے لیے حساس ہیں۔ مغربی چمپارن، گوپال گنج، سارن، مظفرپور اور بیگوسرائے میں ان دریاؤں کے پانی کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نیپال میں 100 سے زیادہ ایسی جھیلیں موجود ہیں جن کے قدرتی رکاوٹیں ٹوٹنے کی صورت میں اچانک بڑے پیمانے پر سیلاب آ سکتا ہے۔ 2017 میں بھی سکرہنا اور اس کی معاون پہاڑی ندیوں میں آنے والے سیلاب نے شمالی بہار میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ فی الحال بہار انتظامیہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح چوکس ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






