
ہاراشٹر کے ناندیڑ میں شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) کے سربراہ اور پنجاب کے سابق نائب وزیراعلیٰ سکھبیر سنگھ بادل پر جمعرات کو ایک گردوارے کے احاطے میں ایک نہنگ نے مبینہ طور پر حملہ کیا۔ ضلعی پولیس کے مطابق حملے میں سکھبیر سنگھ بادل کے ہاتھ پر چوٹ آئی، جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا۔
وزیراعلیٰ فڑنویس نے دیا تحقیقات کا حکم
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سکھبیر سنگھ بادل سے فون پر بات بھی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ بادل نے فڑنویس کو اپنی حالت مستحکم ہونے کی اطلاع دی۔ وزیراعلیٰ کے دفتر کے ذرائع کے مطابق دیویندر فڑنویس نے ناندیڑ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے واقعے کے بارے میں تفصیلات طلب کیں۔ ذرائع نے بتایا کہ حملے کے ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے اور وزیراعلیٰ نے حملے کے پس پردہ مقصد کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کی ہدایت دی ہے۔
2024 میں بھی ہوا تھا سکھبیر بادل پر حملہ
سکھبیر سنگھ بادل کو دسمبر 2024 میں بھی حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں ’سیوا‘ انجام دیتے ہوئے انہیں گولی مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ حملہ آور نے مبینہ طور پر بادل پر فائرنگ کی کوشش کی، تاہم اسے قابو کر لیا گیا اور سکھبیر سنگھ بادل محفوظ رہے تھے۔ 2024 کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب اکال تخت نے 2007 سے 2017 کے درمیان ایس اے ڈی کی زیر قیادت پنجاب حکومت کے دوران لیے گئے فیصلوں پر سکھبیر سنگھ بادل کو مذہبی بدعنوانی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ’تنکھائیا‘ قرار دیا تھا۔ اس کے بعد بادل گولڈن ٹیمپل میں ’سیوا‘ انجام دے رہے تھے۔ 2024 کے حملے کے بعد ایس اے ڈی رہنما بکرم سنگھ مجیٹھیا نے پنجاب پولیس پر تنقید کرتے ہوئے سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے تھے۔ موجودہ حملے کے بعد بھی پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر واقعے کے محرکات کی جانچ شروع کر دی ہے۔





