
نئی دہلی: کانگریس رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے جمعرات کو مانسون اجلاس کے دوران پارلیمنٹ سے مبینہ غیر حاضری پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ اجلاس ختم ہونے سے صرف دو دن قبل اپنی ’’کمبھ کرن جیسی نیند‘‘ سے بیدار ہوئے اور بحث کے لیے تیار ہونے کا اعلان کیا۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گوگوئی نے الزام لگایا کہ اپوزیشن 20 جولائی کو جنتر منتر پر ہونے والے مظاہرے کے دوران مبینہ پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ کے بیان کا مسلسل مطالبہ کرتی رہی، لیکن امت شاہ ایوان میں موجود نہیں تھے۔ انہوں نے کہا، ’’15 دن تک وزیر داخلہ غائب رہے، صرف اجلاس ختم ہونے سے دو دن قبل اپنی ’کمبھ کرن جیسی نیند‘ سے جاگے اور کہا کہ وہ بحث کے لیے تیار ہیں۔ جب اصل بحث ہو رہی تھی، تب آپ کہاں تھے؟ سب پہلے ہی اپنی رائے دے چکے تھے، صرف آپ کے بیان کا وقت باقی تھا۔‘‘
حکومت پر ذمہ داری سے بچنے کا الزام
گوگوئی نے الزام لگایا کہ حکومت نے وزیر داخلہ کو اپوزیشن کے مطالبات کا جواب دینے دینے کے بجائے بار بار مزید بحث کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بیان دینے سے گریز کیا اور بار بار مزید بحث کا مطالبہ کیا، جو ایوان سے دور رہنے اور اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کا محض ایک بہانہ تھا۔ گوگوئی نے مزید کہا کہ آخرکار وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ لوک سبھا کی کارروائی ملتوی ہونے کے وقت ایوان میں پہنچے، لیکن انہوں نے اسپیکر کی تقریر بھی نہیں سنی۔
’’حکومت پورے اجلاس میں خوفزدہ نظر آئی‘‘
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ پورے مانسون اجلاس کے دوران حکومت ’’خوفزدہ اور دباؤ میں‘‘ نظر آئی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے پارلیمنٹ کے کئی اجلاس دیکھے ہیں، لیکن اس سے پہلے کبھی کسی حکمراں حکومت کو پورے اجلاس کے دوران اتنا خوفزدہ اور دباؤ میں نہیں دیکھا۔ شاید یہ پہلی بار ہے کہ وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ ایوان کی کارروائی سے مکمل طور پر غیر حاضر اور بہت دور نظر آئے۔‘‘ گوگوئی نے مزید الزام لگایا کہ حکومت پورے اجلاس کے دوران دفاعی پوزیشن میں رہی اور چونکہ وہ بعض موضوعات سے بچنا چاہتی تھی، اس لیے ایوان سے دور رہتی رہی۔
تمام سوالات کے جواب دینے کو تیار ہوں: امت شاہ
گوگوئی کے یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امت شاہ نے بدھ کو کہا تھا کہ وہ نیٹ پیپر لیک سے متعلق طلبہ کے احتجاج کے معاملے پر پارلیمنٹ میں ’’تمام سوالات کے جواب‘‘ دینے کے لیے تیار ہیں۔ امت شاہ نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے اپوزیشن سے مشاورت کرکے اس معاملے پر بحث کے لیے وقت مقرر کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔ لوک سبھا اسپیکر کو لکھے خط میں شاہ نے کہا تھا کہ پبلک ایگزامینیشنز (پریونشن آف ان فیئر مینز) ترمیمی بل، 2026 پر رواں اجلاس کے دوران پہلے ہی بحث ہو چکی ہے اور اس وقت اپوزیشن کے کسی رکن نے ایوان میں نیٹ امتحان کا معاملہ نہیں اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس کے باوجود حکومت اس معاملے پر دوبارہ بحث کے لیے تیار ہے۔ دریں اثنا، مانسون اجلاس کے آخری دن ’وندے ماترم‘ کی روایتی پیش کش کے فوراً بعد لوک سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اپوزیشن کے مسلسل احتجاج اور شدید نعرے بازی کے باعث ایوان کی کارروائی متاثر رہی اور اجلاس کا اختتام سیاسی کشیدگی کے درمیان ہوا۔





