
نئی دہلی : بھارتی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (ایف ایس ایس سے اے آئی) نے ماحولیاتی آلودگی اور صحت سے متعلق خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے پان مسالا کی پیکیجنگ کے حوالے سے سخت قدم اٹھایا ہے۔ نئے ضوابط کے تحت پان مسالا تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے پلاسٹک، پی وی سی اور کئی طرح کے مصنوعی پولیمر سے بنے پاؤچز کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پیکیجنگ میں استعمال ہونے والے ایلومینیم فوائل اور میٹلائزڈ تہوں پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔اس فیصلے کے بعد پان مسالا اور گٹکھا کی پیکیجنگ میں طویل عرصے سے استعمال ہونے والے چھوٹے پلاسٹک پاؤچز کا استعمال ختم ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ نئے ضوابط کا مقصد پلاسٹک کے کچرے کو کم کرنا اور ماحول کو پہنچنے والے نقصان پر قابو پانا ہے۔
اب کس طرح کی پیکیجنگ میں ملے گا پان مسالا؟
نئے اصولوں کے مطابق کمپنیوں کو پان مسالا کی پیکیجنگ کے لیے ماحول دوست اور قدرتی مواد اختیار کرنا ہوگا۔ایف ایس ایس اے آئی نے واضح کیا ہے کہ پیکیجنگ کے لیے کاغذ، پیپر بورڈ، سیلولوز یا قدرتی ذرائع سے حاصل ہونے والے دیگر مواد کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔تاہم شرط یہ ہے کہ ان مواد میں کسی بھی قسم کا پلاسٹک یا ممنوعہ کو پولیمر شامل نہ ہو۔ اس کے علاوہ کمپنیاں پان مسالا کو ٹن کے ڈبوں یا شیشے کے کنٹینرز میں بھی پیک کرکے فروخت کر سکتی ہیں۔یعنی مستقبل میں صارفین کو پان مسالا کے روایتی پلاسٹک پاؤچ کے بجائے کاغذ، ٹن یا شیشے کی پیکیجنگ میں مصنوعات مل سکتی ہیں۔
پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ پر زور
اس فیصلے کی بڑی وجہ پان مسالا کے چھوٹے پاؤچز سے پیدا ہونے والے پلاسٹک کچرے کو کم کرنا ہے۔ پلاسٹک اور ملٹی لیئر ساشے عام طور پر ری سائیکل کرنا مشکل ہوتے ہیں، جس کے باعث یہ طویل عرصے تک ماحول میں موجود رہ کر آلودگی کا سبب بنتے ہیں۔ ایف ایس ایس اے آئی نے ’پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ رولز، 2016‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاملے میں سختی کی ہے۔ ان قوانین کے تحت گٹکھا، تمباکو اور پان مسالا کو چھوٹے پلاسٹک پیکٹوں میں رکھنے یا فروخت کرنے پر پہلے ہی پابندی سے متعلق دفعات موجود تھیں۔ اب ان ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کمپنیوں کی پیداواری لاگت بڑھنے کا امکان
پیکیجنگ کے نئے ضوابط سے پان مسالا کمپنیوں کو اپنے موجودہ پیداواری نظام میں بڑی تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔ پلاسٹک پاؤچ کے مقابلے میں کاغذ، ٹن اور شیشے کی پیکیجنگ نسبتاً مہنگی پڑ سکتی ہے، جس سے مصنوعات کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔کمپنیوں کو نئی پیکیجنگ مشینری نصب کرنے، مصنوعات کی پیکیجنگ کو دوبارہ ڈیزائن کرنے اور سپلائی چین میں تبدیلی کے لیے بھی سرمایہ کاری کرنا پڑ سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ کمپنیاں جو اب تک کم لاگت والے پلاسٹک پاؤچز پر زیادہ انحصار کرتی رہی ہیں، انہیں اس تبدیلی کا زیادہ مالی اثر برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماحول دوست پیکیجنگ صنعت کے لیے نئے مواقع
جہاں ایک طرف یہ فیصلہ پان مسالا اور گٹکھا صنعت کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، وہیں دوسری جانب کاغذ، سیلولوز اور بایوڈی گریڈیبل پیکیجنگ تیار کرنے والی صنعتوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ماحول دوست پیکیجنگ کی طلب میں اضافے سے پیپر بورڈ، سیلولوز اور پائیدار پیکیجنگ سلوشنز فراہم کرنے والی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس طرح ایف ایس ایس اے آئی کا یہ اقدام نہ صرف پلاسٹک کچرے کو کم کرنے کی کوشش ہے بلکہ ماحول دوست پیکیجنگ کے شعبے میں نئی کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







