
نئی دہلی : چین میں طاقتور طوفان ’ڈولفن‘ کے اثرات نے تباہی مچا دی ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں سے شدید بارش، سیلاب اور افراتفری کی خوفناک تصاویر سامنے آ رہی ہیں۔ کئی علاقوں میں سڑکیں اور نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے ہیں، جب کہ لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹے چین کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔ طوفان کی نمی اب شمال کی جانب بڑھ رہی ہے اور دارالحکومت بیجنگ میں شدید بارش کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 11 اگست کی رات سے بیجنگ میں موسلا دھار بارش شروع ہو سکتی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صرف 24 گھنٹوں کے دوران شہر میں سالانہ اوسط بارش کے ایک تہائی سے زیادہ کے برابر پانی برس سکتا ہے۔ بیجنگ میں سالانہ اوسط بارش تقریباً 528 ملی میٹر ہے، جو عموماً جون سے ستمبر تک جاری رہنے والے مون سون سیزن میں ہوتی ہے۔ تاہم اس بار چند گھنٹوں میں غیر معمولی بارش کا امکان ہے۔
24 گھنٹوں میں 150 ملی میٹر سے زیادہ بارش کا امکان
بیجنگ کے محکمہ موسمیات کے مطابق منگل کی شام سے جمعرات تک شہر کے بیشتر علاقوں میں شدید بارش ہو سکتی ہے۔ بعض مقامات پر صرف چھ گھنٹوں میں 100 ملی میٹر سے زیادہ جبکہ 24 گھنٹوں میں 150 ملی میٹر سے زائد بارش ہونے کا امکان ہے۔ ٹونگ ژو، داشنگ، فینگ شان، منتوگو، ہوئی رو اور فینگ تائی سمیت بیجنگ کے کئی اضلاع میں 24 گھنٹوں کے دوران 200 ملی میٹر سے زیادہ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ سب سے شدید بارش بدھ کی صبح سے رات تک ہونے کا امکان ہے۔ اتنی بڑی مقدار میں پانی کی نکاسی شہر کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔بیجنگ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی شدید بارش کے لیے اورنج الرٹ جاری کر دیا ہے، جبکہ بعض اضلاع میں ریڈ الرٹ بھی نافذ کیا گیا ہے۔ شہر کے سیلاب کنٹرول محکمے نے بھی لیول-2 ایمرجنسی رسپانس شروع کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
چین کا اس سال کا طاقتور ترین طوفان
’ڈولفن‘ طوفان پہلے مشرقی چین کے ژی جیانگ صوبے سے ٹکرایا تھا۔ اسے رواں سال چین میں آنے والا سب سے طاقتور ٹائیفون قرار دیا گیا ہے۔ بعد میں اس کی شدت کم ہو کر ٹراپیکل اسٹورم میں تبدیل ہو گئی، لیکن اس میں موجود نمی شمالی علاقوں کی جانب بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں شدید بارش کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔اس سے قبل شنگھائی میں بھی شدید بارش اور سیلاب نے معمولات زندگی متاثر کیے تھے۔ شہر میں موسلا دھار بارش کے باعث سیکڑوں پروازیں منسوخ کرنا پڑی تھیں۔ شنگھائی میں بارش نے تقریباً 150 سال پرانے ریکارڈ کو بھی توڑ دیا، جبکہ شدید سیلابی صورتحال کے باعث بڑے پیمانے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
شہریوں کو احتیاط کی ہدایت
چینی حکام نے لوگوں کو دریاؤں، ندی نالوں اور دیگر آبی ذخائر سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں جانے سے بھی گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، کیونکہ لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خدشے کے پیش نظر شہریوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور موسم سے متعلق تازہ اپ ڈیٹس جاری کر رہا ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







